حکیم رانا محمد سرور | حقیقتِ طب اور قانونِ مفرد اعضاء

وضاحت

یہ حکیم رانا محمد سرور کی سوانح، تدریسی خدمات اور طبی افکار کا تعارف ہے۔ ان کے نظریات، تشخیصی اصولوں اور مجربات کو ان کے اپنے مکتبِ فکر کے مطابق بیان کیا گیا ہے۔ کسی مخصوص مرض، غذا یا دوا کے عملی استعمال کے لیے مریض کی مکمل کیفیت دیکھنے والے اہل معالج سے مشورہ کریں۔

حکیم رانا محمد سرور، حقیقتِ طب

حکیم رانا محمد سرور کا تعارف

حکیم رانا محمد سرور، جنہیں طبی حلقوں میں رانا محمد سرور انقلابی بھی کہا جاتا ہے، اسلام آباد سے وابستہ طبِ مشرق کے سینئر معالج، مدرس اور علمی منتظم ہیں۔ ان کی طبی شناخت حکیم دوست محمد صابر ملتانی کے مکتبِ فکر، قانونِ مفرد اعضاء اور نبض و تشخیص کی عملی تدریس سے قائم ہوئی۔ شاگرد اور ساتھی حکماء انہیں احتراماً ”استاد الحکماء“ کہتے ہیں، جبکہ حقیقتِ طب کے حلقے میں وہ سرپرست اور مرکزی استاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔

ان کی عملی زندگی مطب تک محدود نہیں۔ انہوں نے باقاعدہ تربیتی کلاسوں، ہفتہ وار اور ماہانہ مجالس، سوال و جواب کے پروگراموں، آن لائن دروس اور اطباء کے تجربات کے تبادلے کو اپنی علمی خدمت کا اہم حصہ بنایا۔ ان کی گفتگو میں بنیادی طبی اصولوں کو سمجھنے، اصل کتابوں کا مطالعہ کرنے اور تشخیص و تجویز کے درمیان مربوط تعلق پیدا کرنے پر مسلسل زور ملتا ہے۔

اسلام آباد اور صابر ملتانی دواخانہ

حکیم رانا محمد سرور کی پیشہ ورانہ سرگرمی اسلام آباد کے علاقے کورال سے وابستہ ہے، جہاں ان کا طبی مرکز ”صابر ملتانی دواخانہ“ کے نام سے متعارف ہے۔ دواخانے کے نام سے ہی حکیم صابر ملتانی کے علمی مشن کے ساتھ ان کی وابستگی نمایاں ہوتی ہے۔ یہاں مریضوں کے معائنے کے ساتھ طلبہ اور معالجین کے لیے محدود تعداد میں بالمشافہ تربیتی نشستیں بھی منعقد ہوتی رہی ہیں۔

ان کے 2026ء کے نبض شناسی کورس کے تعارف کے مطابق دواخانے میں قریب بیٹھ کر سیکھنے والوں کے لیے تقریباً بیس سے بائیس نشستوں کا انتظام تھا، جبکہ دور دراز طلبہ کے لیے آن لائن شرکت کی سہولت بھی رکھی گئی۔ اس امتزاج نے ان کے مطب کو علاج گاہ کے ساتھ ایک عملی تدریسی مرکز کی شکل دی۔

علمی سفر اور صابر ملتانی سے فکری وابستگی

حکیم رانا محمد سرور اپنے دروس میں حکیم دوست محمد صابر ملتانی کی تحریروں اور اصطلاحات کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں۔ 2021ء کے ایک ابتدائی طویل خطاب میں انہوں نے اپنے طریقۂ فہم اور تدریس کے پیچھے تقریباً پندرہ سے سولہ سال کی مسلسل محنت کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق قانون کو سمجھنے کے لیے محض نسخہ یاد کرنا کافی نہیں؛ اصل اصول، تحریک کی نوعیت، عضو کی کیفیت اور مریض کی علامات کے باہمی ربط کو سمجھنا ضروری ہے۔

ان کا اصرار ہے کہ صابر ملتانی کی کتابوں کو بار بار اور توجہ سے پڑھا جائے، کیونکہ ان کے نزدیک نظریہ اور قانون کو ایک دوسرے کی جگہ استعمال کرنے سے تشخیص و علاج میں الجھن پیدا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اپنے متعدد دروس میں ”نظریہ کیا بتاتا ہے اور قانون کیا بتاتا ہے“ کے فرق کو موضوع بنایا اور طلبہ کو مکتبِ صابر کی اصل اصطلاحات تک واپس آنے کی تلقین کی۔

حقیقتِ طب ریسرچ سنٹر

حقیقتِ طب ریسرچ سنٹر حکیم رانا محمد سرور کی تدریسی اور فکری سرگرمیوں کا منظم پلیٹ فارم ہے۔ 15 جنوری 2022ء کی ایک تربیتی کلاس میں انہوں نے مرکز کے مقاصد پر تفصیلی گفتگو کی۔ ان کے بیان اور ادارے کے تعارف کے مطابق اس کا مقصد طب کے بنیادی اصولوں اور قوانین کو صحیح مفہوم میں واضح کرنا، اطباء کو فنِ طب کی حقیقت سے روشناس کرانا اور تشخیص و تجویز میں آسانی پیدا کرنا ہے۔

مرکز کا انداز صرف یک طرفہ لیکچر نہیں۔ سوال و جواب، طبی مثالیں، مریض کی علامات، نبض، قارورہ اور شاگردوں کے عملی تجربات کو تدریس کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ اختلافی مباحث میں حکیم صاحب کا بنیادی مطالبہ یہ رہتا ہے کہ بات کو اصل کتاب، واضح اصطلاح اور عملی اصول کے ساتھ پیش کیا جائے۔ اس طریقے سے حقیقتِ طب ایک درس گاہ، مذاکرے اور مطبی تجربات کے تبادلے کا مشترک پلیٹ فارم بن گئی۔

حقیقتِ طب یوٹیوب چینل

Haqiqat_e_Tibb (Hakeem Rana M. Sarwar) کے نام سے ان کا یوٹیوب چینل 30 دسمبر 2019ء کو قائم ہوا۔ 4 ستمبر 2026ء کے جائزے کے وقت چینل پر تقریباً ساڑھے تین ہزار subscribers اور 297 ویڈیوز موجود تھیں۔ چینل کا بیان کردہ مقصد طب کے بنیادی اصولوں کو واضح کرنا اور اطباء کے لیے تشخیص و تجویز کو آسان بنانا ہے۔

چینل کا بڑا حصہ مختصر نسخوں کے بجائے تفصیلی علمی دروس پر مشتمل ہے۔ باقاعدہ لیکچرز کی playlist میں پچاس اسباق، سوال و جواب میں اکتیس ویڈیوز، تاثرات و تجربات میں دس پروگرام، پرانے لیکچرز میں آٹھ ویڈیوز اور نبض شناسی کورس کی اختتامی سرگرمیوں میں سولہ ویڈیوز شامل ہیں۔ دمہ اور ہاضم ادویہ کے نسخوں، نعتیہ کلام اور مختلف اعلانات کے لیے الگ playlists بھی بنائی گئی ہیں۔

باقاعدہ تدریسی سلسلہ

2021ء اور 2022ء میں ان کے دروس کو RL یعنی Regular Lecture نمبروں کے تحت محفوظ کیا گیا۔ اس سلسلے میں ارکانِ طب، اعضا اور ان کے افعال، نبض و تشخیص، علم العلامات، مرض کے اسباب، قارورہ، کیفیات کے مطابق مادہ، تحریک، تسکین، تحلیل اور قانونِ شفا جیسے موضوعات شامل ہیں۔ یہ ترتیب ظاہر کرتی ہے کہ ان کا مقصد منتشر معلومات دینے کے بجائے ایک مربوط نصابی سلسلہ تیار کرنا تھا۔

قانونِ مفرد اعضاء کی حقیقت پر 10 اپریل 2021ء کے دو حصوں پر مشتمل درس، ہفتہ وار لیکچرز، ”ایک سوال اور اس کا جواب“ اور بعد کے سالوں کی منظم کلاسیں ان کے تدریسی سفر کے اہم ریکارڈ ہیں۔ بہت سے دروس تیس منٹ سے ایک گھنٹے تک طویل ہیں، جس سے طلبہ کو اصطلاحات، مثالوں اور سوالات پر تفصیل سے غور کرنے کا موقع ملتا ہے۔

نبض شناسی کو مرکزی مقام

حکیم رانا محمد سرور کی تدریس میں نبض شناسی کو خاص مقام حاصل ہے۔ ان کے مطابق نبض معالج کے سامنے مریض کی کیفیت اور علامات کو منظم طور پر سمجھنے کا بنیادی ذریعہ ہے۔ انہوں نے قانونِ مفرد اعضاء کی نبضوں اور ان کی پہچان پر کم از کم تین طویل حصوں میں درس دیا، جن میں نبض کے درجات، مادہ، کیفیت اور اعضائی تعلق کی تشریح کی گئی۔

مارچ 2026ء میں انہوں نے دس روزہ نبض شناسی کورس کا اعلان کیا۔ ان کے بیان کے مطابق روزانہ تقریباً دو سے تین گھنٹے کی نشست میں منظم سبق کے بعد سوال و جواب کے لیے وقت رکھا گیا، اور بالمشافہ و آن لائن دونوں طرح شرکت ممکن تھی۔ کورس مکمل ہونے کے بعد ایک گھنٹے سے زیادہ دورانیے کی تقریب میں اسناد تقسیم کی گئیں۔ یہ سرگرمی ان کی تدریس کے مسلسل اور عملی مزاج کو ظاہر کرتی ہے۔

قارورہ اور دیگر تشخیصی ذرائع

نبض کے ساتھ قارورہ بھی ان کے ابتدائی تدریسی موضوعات میں شامل رہا ہے۔ 2021ء کے ہفتہ وار لیکچر میں انہوں نے قارورہ کے ذریعے تشخیص کا طریقۂ کار بیان کیا، جبکہ ایک الگ مختصر درس میں قارورہ لینے کی شرائط واضح کیں۔ ان کے نزدیک تشخیصی علامت کو تنہا نہیں بلکہ مریض کی مجموعی کیفیت، نبض، اخراجات اور دوسرے مشاہدات کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔

ان کے دروس میں ”علم العلامات“ اسی جامع مشاہدے کی نمائندگی کرتا ہے۔ وہ طلبہ کو یہ تربیت دیتے ہیں کہ علامت کے ظاہری نام سے آگے بڑھ کر اس کی کیفیت، متعلقہ عضو، تحریک اور مرض کے مرحلے کو دیکھا جائے۔ اس طرح تشخیص ان کے نزدیک محض مرض کا نام مقرر کرنا نہیں بلکہ جسم کی فعلی حالت سمجھنے کا عمل بنتی ہے۔

تحریک، تسکین اور تحلیل

تحریک، تسکین اور تحلیل حکیم رانا محمد سرور کے علمی کام کے نمایاں مباحث ہیں۔ مارچ 2021ء کے ایک باقاعدہ درس اور بعد کے پانچ حصوں پر مشتمل سلسلے میں انہوں نے قانونِ مفرد اعضاء کے طریقۂ علاج کو انہی مراحل کی مدد سے سمجھایا۔ ان کے مطابق جسم میں جاری کیفیت اور اس کے آگے پیچھے آنے والی حالت کو درست پہچاننا تجویز کی ترتیب کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

وہ ”اگلی تحریک میں علاج“، ”ہر تحریک کا مادہ“ اور مختلف کیفیات کے باہمی تعلق جیسے سوالات پر الگ الگ گفتگو کرتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ تحریک، تسکین اور تحلیل کو صرف ناموں کی فہرست کے طور پر نہیں بلکہ ایک جاری فعلی ترتیب کے طور پر سمجھا جائے۔ ان اصولوں کا کسی مریض پر عملی اطلاق مکمل تشخیص اور اہل معالج کی نگرانی کے ساتھ ہونا چاہیے۔

سوال و جواب کی روایت

حقیقتِ طب کے تعلیمی نظام میں سوال و جواب مرکزی اہمیت رکھتا ہے۔ چینل کی الگ playlist میں اکتیس پروگرام محفوظ ہیں، جبکہ بہت سے باقاعدہ لیکچرز کے آخر میں بھی طلبہ کے سوالات لیے جاتے ہیں۔ نبض، علامات، فالج، سانس کی تنگی، پیٹ پھولنا، صورتِ انزال، غذا اور طریقۂ علاج جیسے مسائل انہی مجالس میں زیر بحث آئے۔

حکیم صاحب کا انداز یہ ہے کہ سوال کو پہلے قانونِ مفرد اعضاء کی بنیادی اصطلاحات میں ترتیب دیتے ہیں، پھر عضو، کیفیت، تحریک اور تجویز کے ربط کی وضاحت کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک صحیح سوال طالب علم کو محض تیار نسخے سے آگے لے جاکر اصول سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے چینل پر سوالات کے جوابات ایک مستقل علمی ذخیرے کی صورت اختیار کر گئے ہیں۔

تربیتی کلاسیں اور شاگرد

حکیم رانا محمد سرور کے زیر نگرانی 2021ء سے قانونِ مفرد اعضاء کی متعدد تربیتی کلاسیں ریکارڈ پر موجود ہیں۔ ان کلاسوں کے بعد حکیم نعیم اللہ جان، حکیم اللہ داد، حکیم طارق محمود، حکیم حیدر زمان، حکیم عبدالرحمن تبسم، حکیم قاری محمد اسحاق، حکیم غلام مصطفیٰ، حکیم محمد زبیر، حکیم محمد سمیع اللہ، حکیم صدام حسین اور حکیم محمد امجد ریاض سمیت متعدد شرکاء کے تاثرات بھی محفوظ کیے گئے۔

ان تاثرات کی موجودگی سے ان کی تدریس کا اجتماعی دائرہ سامنے آتا ہے۔ شاگردوں نے نبض، قانونِ مفرد اعضاء اور عملی تشخیص کے موضوعات پر اپنی سیکھ اور مطبی تجربات بیان کیے۔ حقیقتِ طب کی ”تاثرات و تجربات“ playlist اسی علمی رابطے کو دستاویزی صورت دیتی ہے، جبکہ ماہانہ اجتماعات میں مختلف علاقوں کے حکماء کو اپنے تجربات پیش کرنے کا موقع ملتا ہے۔

مریضوں اور عوام کے لیے طبی موضوعات

حقیقتِ طب کے ابتدائی مواد میں زیادہ توجہ اطباء کی تربیت پر تھی، جبکہ بعد کے برسوں میں عوامی فہم کے لیے مختصر موضوعاتی ویڈیوز بھی شامل ہوئیں۔ ان میں بچوں کے پیٹ درد، بستر پر پیشاب، دانت پیسنا، جسمانی کمزوری، پیٹ کے کیڑے، تھلیسیمیا، گھٹنوں کے درد، بواسیر، خواتین کے مسائل، حمل اور غذا سے متعلق گفتگو شامل ہے۔

ان ویڈیوز میں حکیم صاحب اپنی مطبی روایت اور قانونِ مفرد اعضاء کے مطابق علامات، اسباب اور تدابیر بیان کرتے ہیں۔ بعض عنوانات میں فوری یا مکمل علاج جیسے الفاظ عوامی توجہ کے لیے استعمال ہوئے ہیں؛ ایسے دعووں کے عملی نتائج مریض کی کیفیت اور مکمل معائنے سے وابستہ ہوتے ہیں اور جہاں مزید آزاد مطبی شہادت درکار ہو وہاں اس کی تصدیق مفید ہوگی۔

غذا، دوا اور سادہ تجویز

ان کی گفتگو میں غذا اور دوا دونوں کو جسمانی کیفیت کے مطابق ترتیب دینے پر زور ملتا ہے۔ وہ تیار شدہ نسخے کو ہر مریض پر یکساں لاگو کرنے کے بجائے نبض، علامات اور تحریک کے مطابق تجویز کی بات کرتے ہیں۔ ہاضم ادویہ اور دمہ کے نسخوں کے لیے بنائی گئی playlists سے ان کے مجرباتی کام کا ایک پہلو سامنے آتا ہے، جبکہ باقاعدہ دروس ان نسخوں کے پس منظر میں کارفرما اصول سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

حکیم صاحب کے نزدیک سادہ اور واضح تجویز اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب معالج نے مبادیات مضبوط کی ہوں۔ اسی لیے وہ دوا کے نام سے پہلے ارکان، افعال، کیفیات اور تشخیص کی تعلیم کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ ترتیب ان کے تدریسی فلسفے کی بنیاد ہے: پہلے قانون کو سمجھنا، پھر مریض کی حالت پہچاننا اور اس کے بعد تجویز مرتب کرنا۔

تصنیف اور علمی مواد کی تدوین

حقیقتِ طب سے وابستہ حالیہ اعلانات میں حکیم رانا محمد سرور کی کتاب مبادیاتِ طب کی تکمیل کے لیے دعا اور خواہش کا اظہار ملتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی زبانی اور تدریسی روایت کو باقاعدہ کتابی صورت دینے کا کام جاری ہے۔ کتاب کے مکمل bibliographic کوائف سامنے آنے پر اس سوانح میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔

ان کے شاگردوں نے بھی ان کے دروس کی تدوین میں حصہ لیا ہے۔ آن لائن طبی کتب کی ایک فہرست میں ”استاد الحکماء حکیم رانا محمد سرور صاحب کی قانون مفرد اعضاء کی روشنی میں بتائی گئی نبضیں“ کے عنوان سے حکیم سمیع کی مرتب کردہ تحریر درج ہے۔ یہ کوشش ظاہر کرتی ہے کہ ان کی زبانی تعلیم کو طلبہ نے تحریری شکل میں محفوظ کرنے کی ضرورت محسوس کی۔

طبی اخلاق، مطالعہ اور خدمت کا تصور

حکیم رانا محمد سرور کے خطابات میں علم کے ساتھ اخلاقی ذمہ داری بھی نمایاں ہے۔ وہ حکماء کو مسلسل مطالعے، اصل حوالہ دیکھنے، غلطی تسلیم کرنے، سوال سننے اور مریض کے فائدے کو مقدم رکھنے کی تلقین کرتے ہیں۔ اختلاف کے باوجود ان کا بار بار ظاہر ہونے والا مرکزی پیغام یہ ہے کہ طبی گفتگو ذاتی نام و نمود کے بجائے اصول اور خدمت کے گرد ہونی چاہیے۔

چینل پر نعتیہ کلام، دینی حوالوں اور اخلاقی اپیلوں کی موجودگی ان کی شخصیت کے روحانی پہلو کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ ”انقلابی“ کی نسبت ان کے نام کے ساتھ طبی و فکری حلقوں میں استعمال ہوتی ہے اور ان کی گفتگو میں اصلاح، بیداری اور خدمت کے تصور سے ہم آہنگ نظر آتی ہے۔

حقیقتِ طب کا علمی اثر

حکیم رانا محمد سرور کی نمایاں خدمت یہ ہے کہ انہوں نے قانونِ مفرد اعضاء کے زبانی اور مطبی علم کو مسلسل ویڈیو دروس میں محفوظ کیا۔ تقریباً تین سو ویڈیوز پر مشتمل ذخیرہ ایک استاد کی گفتگو ہی نہیں بلکہ 2021ء سے 2026ء تک ایک بڑھتے ہوئے تعلیمی حلقے، اس کے سوالات، اختلافات، تربیتی مراحل اور تجربات کا ریکارڈ بھی ہے۔

ان کے کورسوں میں بالمشافہ اور آن لائن شرکت، باقاعدہ playlists، اسناد کی تقسیم اور شاگردوں کے تاثرات نے اس علم کو مقامی مطب سے باہر پہنچایا۔ ان کی نبض شناسی اور مبادیات پر توجہ نے حقیقتِ طب کو نسخہ جاتی مواد کے بجائے اصولی تدریس کا تشخص دیا۔ یہی پہلو انہیں اپنے معاصر طبی مدرسین میں ایک الگ مقام دیتا ہے۔

سوانحی معلومات کی تکمیل

حکیم صاحب کی علمی مجالس اور طبی دروس کا وافر ریکارڈ موجود ہے، تاہم تاریخِ پیدائش، آبائی علاقے، رسمی تعلیمی سفر، ابتدائی اساتذہ اور آغازِ مطب کی مکمل زمانی تفصیل عام دستیاب مواد میں یکجا نہیں۔ ان معلومات کی عدم دستیابی ان کی خدمات کی نفی نہیں؛ یہ اس سوانح کے آئندہ تحقیقی مرحلے کی نشان دہی ہے۔

خود حکیم صاحب، ان کے خاندان، دیرینہ شاگردوں یا حقیقتِ طب ریسرچ سنٹر کی طرف سے تفصیلی سوانحی انٹرویو اور دستاویزات دستیاب ہوں تو اس خاکے کو مزید جامع بنایا جا سکتا ہے۔ موجودہ ریکارڈ انہیں اسلام آباد کے ایک بزرگ معالج، مدرسِ قانونِ مفرد اعضاء، ماہرِ نبض، حقیقتِ طب کے سرپرست اور اطباء کی کئی نسلوں کو تربیت دینے والے استاد کے طور پر پیش کرتا ہے۔

حوالہ جات و مآخذ (References)

  1. Haqiqat_e_Tibb۔ Haqiqat_e_Tibb (Hakeem Rana M. Sarwar)۔ چینل کا تعارف، قیام، ویڈیوز اور playlists؛ جائزہ 4 ستمبر 2026ء۔
  2. Haqiqat_e_Tibb۔ Hakeem Rana Sarwar Inqlabi۔ 19 فروری 2021ء؛ ابتدائی طویل خطاب۔
  3. Haqiqat_e_Tibb۔ حقیقتِ طب ریسرچ سنٹر کے مقاصد۔ 15 جنوری 2022ء کی تربیتی کلاس۔
  4. Haqiqat_e_Tibb۔ قانونِ مفرد اعضاء کی حقیقت، حصہ اول۔ 10 اپریل 2021ء۔
  5. Haqiqat_e_Tibb۔ قانونِ مفرد اعضاء کی نبضیں اور ان کی پہچان، حصہ اول۔ تدریسی سلسلہ 2021ء۔
  6. Haqiqat_e_Tibb۔ تحریک، تسکین اور تحلیل۔ 27 مارچ 2021ء۔
  7. Haqiqat_e_Tibb۔ قارورہ کے ذریعے تشخیص کا طریقۂ کار، حصہ اول۔ 1 مئی 2021ء۔
  8. Haqiqat_e_Tibb۔ حقیقتِ طب سے متعلق متفرق گفتگو۔ 16 جولائی 2022ء کی گفتگو۔
  9. Haqiqat_e_Tibb۔ دس روزہ نبض شناسی کورس کا تعارف۔ 7 مارچ 2026ء۔
  10. Haqiqat_e_Tibb۔ دس روزہ نبض کورس کی اختتامی تقریب اور اسناد کی تقسیم۔ 2026ء۔
  11. حکیم رانا محمد سرور۔ عوامی پیشہ ورانہ صفحہ۔ صابر ملتانی دواخانہ، حقیقتِ طب اور علمی سرگرمیوں کا تعارف۔
  12. حقیقتِ طب علمی حلقہ۔ ماہانہ علمی اجلاس اور کتاب مبادیاتِ طب کا ذکر۔
مصنف جی ایم لطیف زادے

مصنف کے بارے میں

جی ایم لطیف زادے، UniTib کے شریک بانی اور مصنف ہیں۔ وہ ہیلتھ سرٹ ایجوکیشن سے قدرتی طب و جڑی بوٹیوں اور کلینیکل غذائیت کی پیشہ ورانہ اسناد رکھتے ہیں، جبکہ شانتی مکان آیورویدک ویلنس سنٹر سے آیورویدک ادویاتی پودوں کی تربیت بھی حاصل کر چکے ہیں۔ ان کی پیشہ ورانہ دلچسپی نیچروپیتھی، جڑی بوٹیوں، غذائیت اور آیورویدک ادویاتی پودوں کے ذمہ دارانہ اور تعلیمی مطالعے پر مرکوز ہے۔

Post a Comment