اہم احتیاط: کھانے میں استعمال ہونے والا لونگ اور مرتکز روغنِ قرنفل ایک جیسے نہیں۔ روغن کو نگلنا، آنکھ میں ڈالنا یا بلا تخفیف جلد اور مسوڑھوں پر لگانا جلن اور زہریلے اثرات پیدا کر سکتا ہے، خصوصاً بچوں میں۔ شدید دانت درد، چہرے کی سوجن، بخار یا نگلنے میں دشواری ہو تو فوری دندان ساز سے رجوع کریں؛ لونگ سے عارضی آرام اصل سبب کا علاج نہیں۔
خلاصہ: لونگ، جسے کتبِ طب میں قرنفل کہا جاتا ہے، Syzygium aromaticum کی خشک ناشگفتہ پھول کلی ہے۔ طب یونانی میں اسے گرم و خشک، خوشبودار، مقویِ معدہ، کاسرِ ریاح اور دافعِ تعفن ادویہ میں شمار کیا گیا ہے۔ اس مضمون میں شناخت، مزاج، افعال، مقدار، مصلح، روایتی استعمال اور احتیاطیں ابنِ سینا، محمد بن زکریا رازی، ابنِ بیطار اور حکیم محمد حسن قرشی سے متعلق دستیاب مآخذ کی روشنی میں بیان کی گئی ہیں۔
لونگ یا قرنفل کیا ہے؟
لونگ ایک سدا بہار درخت کی پھول کلی ہے جسے کھلنے سے پہلے توڑ کر خشک کیا جاتا ہے۔ خشک کلی کی لمبی ڈنڈی اور ابھرا ہوا سرا اسے چھوٹی کیل جیسی شکل دیتا ہے۔ اسی وجہ سے انگریزی نام clove کو فرانسیسی لفظ clou یعنی کیل سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس کا معروف نباتاتی نام Syzygium aromaticum (L.) Merr. & L.M.Perry اور خاندان Myrtaceae ہے۔ قدیم کتابوں میں قرنفل کا لفظ اسی خوشبودار خشک کلی کے لیے آتا ہے۔
اچھی لونگ بھری ہوئی، نسبتاً وزنی، گہری بھوری، تیز خوشبو اور گرم و تیز ذائقہ رکھتی ہے۔ بہت ہلکی، بے خوشبو، ٹوٹی یا پھپھوندی لگی کلی ناقص سمجھی جاتی ہے۔ پانی میں ڈالنے کا گھریلو امتحان قطعی معیار نہیں؛ دوا کے لیے شناخت، صفائی، ذخیرہ اور روغنی اجزا کی کیفیت بھی اہم ہے۔ اسے ہوا بند برتن میں روشنی، نمی اور حرارت سے بچا کر رکھنا خوشبو اور کیفیت محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
نام، مستعمل حصہ اور بنیادی یونانی تعارف
| اردو و یونانی نام | لونگ، قرنفل، قرنفلِ نر |
|---|---|
| انگریزی نام | Clove |
| نباتاتی نام | Syzygium aromaticum |
| خاندان | Myrtaceae |
| حصہ مستعملہ | خشک ناشگفتہ پھول کلی |
| ذائقہ و بو | خوشبودار، تیز، قدرے تلخ |
| مزاج | گرم و خشک درجۂ سوم |
| اہم افعال | مقویِ معدہ، کاسرِ ریاح، دافعِ تعفن، خوشبودار محرک، مقویِ قلب و دماغ، منفثِ بلغم |
| کتابی مقدار | عموماً 500 ملی گرام تا 1 گرام؛ صورتِ حال اور مرکب نسخے کے مطابق طبیب متعین کرتا ہے |
| مضر | گرم مزاج میں زیادتی؛ بعض متون میں امعاء اور گردوں کے لیے مضر لکھا گیا ہے |
| مصلح | صمغِ عربی |
| بدل | دارچینی یا تیزپات کا ذکر ملتا ہے، مگر بدل کا انتخاب مطلوب فعل کے مطابق ہوتا ہے |
درجۂ سوم کی گرمی و خشکی طب یونانی کی مزاجی اصطلاح ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص ایک ہی مقدار یا ایک ہی مقصد کے لیے اسے استعمال کرے۔ مریض کا مزاج، عمر، موسم، عضو، بیماری کی کیفیت، دوا کی شکل اور نسخے کے دوسرے اجزا فیصلہ بدل سکتے ہیں۔ کھانے میں بطور مصالحہ معمولی مقدار اور سفوف یا روغن کی طبی مقدار کو ایک نہیں سمجھنا چاہیے۔
قدیم اطباء کی کتابوں میں قرنفل
ابنِ سینا: القانون فی الطب
ابنِ سینا نے مفردات کے باب میں قرنفل کی ماہیت، مزاج اور چند افعال مختصر انداز میں درج کیے۔ دستیاب عربی متن میں عبارت ہے: الطبع: حار يابس... ويقوي المعدة
۔ یعنی مزاج گرم و خشک ہے اور اسے معدہ کو قوت دینے والی دوا شمار کیا گیا۔ اسی مقام پر بصارت اور غشاوت سے متعلق قدیم استعمال بھی آتا ہے، لیکن آنکھ میں لونگ یا اس کا روغن ڈالنا اس مضمون کی سفارش نہیں؛ آنکھ کی شکایت میں معائنہ ضروری ہے۔
قانون میں قرنفل کا ذکر خفقان کے ایک مرکب استعمال کے ضمن میں بھی ملتا ہے۔ یہ تاریخی نسخہ اس زمانے کے مزاجی اور تدبیری سیاق سے تعلق رکھتا ہے۔ دھڑکن، سینے کے درد، بے ہوشی یا سانس کی تنگی جیسی علامات کی خود تشخیص نہیں کرنی چاہیے، اس لیے قدیم مقدار کو آج کے لیے خودکار نسخہ سمجھنا درست نہیں۔
محمد بن زکریا رازی: الحاوی فی الطب
رازی کی الحاوی میں قرنفل کا ایک استعمال خفقان کے ذیل میں نقل ہوا ہے: ينفع من الخفقان أن يشرب من القرنفل الذكر زنة نواة مسحوقا
۔ الحاوی کی تدوینی نوعیت کے باعث ایسی عبارت کو تاریخی طبی روایت اور رازی کے جمع کردہ تجربات کے سیاق میں پڑھنا چاہیے۔ یہاں اسے دل کی ہر بیماری کا عمومی علاج قرار نہیں دیا جا رہا؛ اس سے اتنا واضح ہوتا ہے کہ قرنفل قدیم معالجین کے ہاں خوشبودار مقوی ادویہ میں اہم تھا۔
ابنِ بیطار: الجامع لمفردات الادویہ والاغذیہ
ابنِ بیطار نے اپنی جامع کتاب میں قرنفل پر سابق اطباء کے اقوال یکجا کیے اور قائل کا نام بھی محفوظ رکھا۔ قرنفل کی حسی شناخت کے متعلق عبارت ہے: رائحته عطرية وطعمه حريف مع شيء من مرارة
؛ یعنی بو عطری، ذائقہ تیز اور کچھ تلخ ہے۔ اسی اندراج میں گرم و خشک درجۂ سوم، معدہ، ہاضمہ، ریاح اور اعضائے رئیسہ سے متعلق استعمال منقول ہیں۔ چونکہ ابنِ بیطار نے اس مقام پر اسحاق بن عمران، حکیم بن حنین، اسرائیلی اور دوسرے سابق مآخذ بھی نقل کیے ہیں، اس لیے ہر جملے کو بلا تفریق ابنِ بیطار کا ذاتی قول کہنا علمی احتیاط کے خلاف ہوگا۔
حکیم محمد حسن قرشی: طبی فارماکوپیا
حکیم محمد حسن قرشی کی طبی فارماکوپیا، جلد اول قدیم طب کے مجربات کا مجموعہ ہے اور اس کا کتابی ریکارڈ مکتبہ مشیرالاطباء، لاہور سے منسوب ہے۔ قرشی کے حوالے سے دستیاب فارماکوپیائی خلاصے میں قرنفل کی خشک پھول کلی، گرم و خشک درجۂ سوم مزاج، خوشبودار محرک، کاسرِ ریاح، دافعِ تعفن اور ہاضم معاون افعال نمایاں ہیں۔ یہ لفظ بہ لفظ اقتباس نہیں بلکہ کتابی و فارماکوپیائی بیان کا اردو مفہوم ہے، تاکہ قاری ترجمے اور اصل عبارت میں فرق سمجھ سکے۔
قرشی کی کتاب کا حوالہ خاص طور پر مرکبات اور طبی تیاریوں کے تاریخی مطالعے میں مفید ہے۔ تاہم کسی نسخے میں قرنفل کا شامل ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ صرف لونگ اسی پورے مرکب کا قائم مقام ہے؛ مرکب دوا کا مزاج اور فعل اس کے تمام اجزا، اوزان اور طریقِ تیاری سے بنتا ہے۔
طب یونانی میں اہم افعال کی تشریح
مقویِ معدہ اور کاسرِ ریاح
قرنفل کی خوشبو، تیزی اور حرارت کے باعث اسے سردی سے وابستہ ضعفِ ہضم، بھاری پن اور نفخ میں مقویِ معدہ اور کاسرِ ریاح ادویہ کے ساتھ شامل کیا جاتا رہا ہے۔ یونانی اصول میں مقویِ معدہ صرف وقتی احساس بدلنے کا نام نہیں، بلکہ معدہ کے فعل اور مریض کی مجموعی کیفیت کو سامنے رکھ کر دوا چنی جاتی ہے۔ اگر پیٹ درد مسلسل ہو، وزن کم ہو رہا ہو، پاخانے میں خون ہو یا قے جاری ہو تو اسے صرف ریاح کہہ کر خود علاج مناسب نہیں۔
گھریلو غذا میں ایک آدھ لونگ خوشبو اور ذائقے کے لیے استعمال ہونا طبی سفوف سے مختلف ہے۔ تیزابیت، منہ کی جلن یا بہت گرم و خشک مزاج رکھنے والے فرد میں زیادہ لونگ الٹا تکلیف بڑھا سکتا ہے۔ اسی لیے کتب میں مصلح اور مقدار دونوں درج کیے گئے ہیں۔
دافعِ تعفن اور خوشبودار مصلح
قرنفل کو دافعِ تعفن اور خوشبودار دوا سمجھ کر منہ کی ناگوار بو، بعض معاجین اور ایسی مرکب ادویہ میں شامل کیا گیا جن میں خوشبو، ذائقے کی اصلاح یا حفاظت مطلوب ہو۔ منہ کی بدبو دانتوں کی خرابی، مسوڑھوں کی بیماری، منہ کی خشکی، تمباکو، غذا یا دوسری وجوہ سے ہو سکتی ہے۔ لونگ بو کو عارضی طور پر دبا سکتا ہے، مگر بار بار بدبو آنے پر سبب معلوم کرنا زیادہ اہم ہے۔
دانت اور مسوڑھے
وجع الاسنان میں قرنفل اور روغنِ قرنفل کا تاریخی استعمال معروف ہے۔ اس کی خوشبودار روغنی ترکیب، خصوصاً یوجینول، وقتی طور پر درد کی حس کم کر سکتی ہے۔ یورپی ادویاتی جائزے میں بھی روغنِ قرنفل کو دانت درد کے عارضی آرام کے روایتی استعمال کے طور پر بیان کیا گیا ہے، ساتھ ہی جلد دندان ساز سے رابطے کی تاکید کی گئی ہے۔ دانت کے سوراخ، عصب کی سوزش یا پھوڑے کو صرف درد دبانے سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
روغنِ قرنفل کو سیدھا مسوڑھے پر بار بار لگانے سے نرم بافت جل سکتی ہے۔ بچے کو روغن نہ پلائیں اور روئی کا بھیگا پھاہا دیر تک منہ میں نہ چھوڑیں۔ شدید درد میں مناسب دندانی معائنہ بنیادی قدم ہے۔
مقویِ قلب، مقویِ دماغ اور مفرح
کلاسیکی لٹریچر میں خوشبودار ادویہ کو قلب و دماغ کے افعال، روح کی فرحت اور حواس کی تقویت سے جوڑا گیا ہے۔ قرنفل اسی سیاق میں مقویِ قلب، مقویِ دماغ اور مفرح مرکبات کا جزو بنتا ہے۔ ان اصطلاحات کو ان کے یونانی معنی میں پڑھنا چاہیے؛ یہ کسی تشخیص شدہ قلبی، عصبی یا نفسیاتی مرض کے لیے تنہا دوا کا اعلان نہیں۔ طبیب مرکب کی مناسبت، مزاج اور دوسری ادویہ دیکھتا ہے۔
منفثِ بلغم اور تنفسی مرکبات
گرم و خوشبودار ہونے کی وجہ سے قرنفل بعض کھانسی اور بلغمی مرکبات میں منفثِ بلغم یا معاون جزو کے طور پر آتا ہے۔ یہاں بھی خشک کھانسی، دمہ، نمونیا، سل، خون والی کھانسی اور عام بلغمی کیفیت ایک چیز نہیں۔ سانس پھولنے، سینے میں درد، نیلاہٹ یا خون آنے پر گھریلو نسخہ استعمال کرنے کے بجائے فوری طبی مدد درکار ہوتی ہے۔
قوتِ باہ اور دیگر روایتی استعمال
بعض یونانی کتابوں میں قرنفل کو مقویِ باہ مرکبات میں شامل کیا گیا ہے۔ ایسے مرکبات میں قرنفل عموماً واحد جزو نہیں ہوتا اور ضعفِ باہ کی وجوہ بھی جسمانی، نفسیاتی، ہارمونی، ادویاتی یا تعلقاتی ہو سکتی ہیں۔ اس لیے محض لونگ بڑھا دینا یونانی تشخیص اور ترکیب کا بدل نہیں۔ سوزاک، سل، خون والی کھانسی اور کثرتِ حیض جیسے نام پرانے استعمالات کی فہرستوں میں مل سکتے ہیں، لیکن یہ سنگین کیفیات ہیں اور لونگ سے خود علاج کے لیے درج نہیں کی جا رہیں۔
معروف مرکبات میں قرنفل
قرنفل مختلف قرابادینی تیاریوں میں ذائقہ، خوشبو اور مطلوبہ فعل کے لیے شامل کیا جاتا ہے۔ یونانی لٹریچر میں جوارشِ جالینوس، جوارشِ عود شیریں، بعض مفرحات، اطریفل اور مقوی مرکبات کے نسخوں میں اس کا ذکر ملتا ہے۔ نام ایک ہونے کے باوجود مختلف فارماکوپیا یا ادارے کے نسخے میں اجزا اور اوزان بدل سکتے ہیں؛ اس لیے لیبل، مستند قرابادین اور تیار کنندہ کی ہدایات دیکھنا ضروری ہے۔
مرکب دوا میں قرنفل عموماً دوسرے اجزا کے ساتھ توازن میں ہوتا ہے۔ کسی معجون یا جوارش کے مکمل اثر کو صرف قرنفل سے منسوب کرنا درست نہیں، اور مکمل مرکب کے بجائے قرنفل کی مقدار کئی گنا بڑھا دینا بھی اصولِ ترکیب کے خلاف ہو سکتا ہے۔
لونگ کے اہم کیمیائی اجزا
لونگ کی مخصوص بو اور تیزی اس کے فرّار روغن سے آتی ہے۔ یوجینول اس روغن کا نمایاں جزو ہے؛ اس کے ساتھ یوجینائل ایسیٹیٹ اور بیٹا کیریوفائلین سمیت دوسرے اجزا بھی پائے جاتے ہیں۔ فصل، مقامِ کاشت، خشک کرنے کے طریقے اور تجزیاتی معیار کے باعث تناسب بدل سکتا ہے، اس لیے ہر نمونے کو ایک مقرر فیصد سمجھنا مناسب نہیں۔
خشک کلی اور روغن میں بنیادی فرق ارتکاز کا ہے۔ چند کلیوں میں موجود فرّار روغن محدود مقدار میں ہوتا ہے، جبکہ بوتل کا essential oil نہایت مرتکز ہوتا ہے۔ اسی لیے کھانے کا تجربہ روغن کی خوراک طے کرنے کے لیے قابلِ اعتماد پیمانہ نہیں۔ روغن کے معیار، ملاوٹ، ذخیرے اور استعمال کے طریقے سے حفاظت بھی بدلتی ہے۔
جدید تحقیق کو کس درجے میں سمجھیں؟
لونگ یا یوجینول پر تجربہ گاہی مطالعات میں بعض بیکٹیریا اور فنگس کے خلاف سرگرمی دیکھی گئی ہے۔ یہ نتائج دوا سازی اور مزید تحقیق کے لیے اہم ہیں، لیکن پیٹری ڈش میں جرثومے کی افزائش رکنا انسان میں انفیکشن کے علاج کے برابر نہیں۔ مقدار، جذب، جسم میں تقسیم، زہریلا پن اور بیماری کی نوعیت انسانی نتیجے کو بدلتے ہیں۔ اسی طرح خلیاتی یا حیوانی مطالعات میں سوزش، آکسیڈیٹیو عمل، گلوکوز یا غیر معمولی خلیات پر مشاہدات کو کینسر، ذیابیطس، پی سی او ایس یا جگر و گردے کی بیماری کا ثابت شدہ انسانی علاج نہیں کہا جا سکتا۔
اس فرق کو بیان کرنا طب یونانی کی نفی نہیں بلکہ تحقیق کے ہر ماخذ کو اس کی صحیح حد میں رکھنا ہے۔ طب یونانی کا مزاج، افعال، مصلح، بدل اور مرکب نسخہ اپنا علمی سیاق رکھتے ہیں؛ جدید تجربہ گاہی تحقیق کی اصطلاحات اس سیاق کا لفظی متبادل نہیں۔ دونوں قسم کے مواد کو الگ عنوانوں کے تحت رکھنے سے قاری تاریخی روایت اور موجودہ تجرباتی شہادت کو خلط نہیں کرتا۔
مقدار اور طریقۂ استعمال
متداول یونانی مونوگراف میں خشک قرنفل کی مقدار عموماً نصف تا ایک گرام درج ہے، مگر یہ کتابی حد ہے، ہر شخص کے لیے روزانہ نسخہ نہیں۔ طبیب مطلوب فعل، مزاج، عمر، بیماری، مصلح اور مرکب کے دوسرے اجزا کے مطابق مقدار بدل سکتا ہے۔ بچوں، حاملہ یا دودھ پلانے والی خواتین، جگر کے مریضوں اور مسلسل ادویہ لینے والوں میں خود سے طبی مقدار یا روغن استعمال نہ کیا جائے۔
غذا میں لونگ سالن، چاول، قہوہ یا مصالحہ مرکب میں معمولی مقدار سے خوشبو کے لیے شامل کیا جاتا ہے۔ قہوہ بناتے وقت بہت زیادہ کلیاں ڈالنا ضروری نہیں؛ تیز ذائقہ، منہ یا معدہ میں جلن ہو تو استعمال روک دیں۔ قرنفل کا سفوف نمی میں جلد خوشبو کھو سکتا ہے، اس لیے ضرورت کے قریب پیسنا بہتر ہے۔
مصلح کے طور پر صمغِ عربی کا ذکر اس امکان کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ تیزی اور خشکی کو معتدل کرنا مقصود ہے۔ مصلح کا تصور محض ساتھ کھا لینے کا عمومی فارمولا نہیں؛ نسخے میں اس کی مقدار اور مناسبت طبیب طے کرتا ہے۔ بدل بھی اسی وقت اختیار کیا جاتا ہے جب اصل دوا دستیاب نہ ہو اور مطلوبہ فعل واضح ہو۔
مضر اثرات اور ضروری احتیاطیں
- گرم و خشک مزاج: زیادہ مقدار منہ، حلق یا معدہ میں جلن، خشکی اور بے آرامی پیدا کر سکتی ہے۔
- روغنِ قرنفل: بلا تخفیف استعمال جلد اور مخاطی جھلی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اسے نگلنا خصوصاً بچوں کے لیے خطرناک ہے۔
- جگر: یوجینول یا روغن کی زیادہ خوراک کے بعد شدید جگر نقصان کی طبی رپورٹس موجود ہیں؛ خوراکی مصالحے کو اس مرتکز روغن کے برابر نہ سمجھیں۔
- خون بہنے کا امکان: خون پتلا کرنے والی دوا، خون جمنے کی خرابی یا مجوزہ جراحی کی صورت میں طبی مقدار، سپلیمنٹ یا روغن سے پہلے معالج کو بتائیں۔
- حمل اور رضاعت: غذا کی معمولی مقدار اور باقاعدہ طبی مقدار الگ ہیں؛ مرتکز مصنوعات کے لیے متعلقہ معالج کی رائے ضروری ہے۔
- الرجی: سوجن، چھپاکی، سانس میں دشواری یا شدید جلن ہو تو استعمال بند کرکے فوری مدد لیں۔
- دانت درد: عارضی سکون کے باوجود درد، سوجن یا بخار برقرار رہے تو دندان ساز سے معائنہ کرائیں۔
عام سوالات
لونگ کا مزاج کیا ہے؟
طب یونانی کے معروف مآخذ میں قرنفل کو گرم و خشک درجۂ سوم لکھا گیا ہے۔ اس درجہ بندی کی بنا پر گرم مزاج، جلن اور خشکی کی غالب علامات میں مقدار اور مصلح کا زیادہ خیال رکھا جاتا ہے۔
لونگ اور قرنفل میں کوئی فرق ہے؟
عام استعمال میں دونوں ایک ہی خشک پھول کلی کے نام ہیں۔ قرنفل کلاسیکی عربی و طبی نام ہے جبکہ لونگ اردو اور برصغیر میں زیادہ معروف نام ہے۔
کیا لونگ روزانہ کھائی جا سکتی ہے؟
کھانے میں مصالحے کی معمولی مقدار اکثر بالغوں کی عمومی غذا کا حصہ ہو سکتی ہے، مگر روزانہ طبی مقدار، سفوف، کیپسول یا روغن الگ معاملہ ہے۔ مسلسل بیماری یا دوا کے ساتھ ان صورتوں کا فیصلہ انفرادی مشورے سے ہونا چاہیے۔
کیا لونگ دانت کا درد ختم کر دیتی ہے؟
لونگ یا اس کے جز یوجینول سے وقتی آرام ہو سکتا ہے، مگر کیڑا، عصب کی سوزش یا پھوڑا ختم نہیں ہوتا۔ روغن سے منہ جل بھی سکتا ہے، اس لیے درد کی وجہ کا دندانی علاج ضروری ہے۔
کیا لونگ کا تیل پیا جا سکتا ہے؟
نہیں، خود سے روغنِ قرنفل پینا محفوظ عمل نہیں۔ یہ مرتکز ہے اور زیادہ مقدار خصوصاً بچوں میں جگر، اعصابی نظام اور جسم کے دوسرے حصوں کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔
قرنفل کی کتابی مقدار کتنی ہے؟
یونانی مونوگراف میں عموماً 500 ملی گرام تا 1 گرام درج ہے۔ یہ معلومات مطالعے کے لیے ہیں؛ اصل مقدار مفرد یا مرکب صورت، مزاج اور مقصد کے مطابق مستند طبیب متعین کرتا ہے۔
خلاصۂ کلام
قرنفل طب یونانی کی معروف خوشبودار ادویہ میں شامل ہے۔ کلاسیکی مآخذ میں اس کا گرم و خشک مزاج، معدہ اور ہاضمہ سے مناسبت، ریاح توڑنے کی صلاحیت اور بعض مقوی و دافعِ تعفن استعمال نمایاں ہیں۔ ابنِ سینا، رازی اور ابنِ بیطار کی عبارات اس تاریخی تسلسل کو دکھاتی ہیں، جبکہ حکیم محمد حسن قرشی کی فارماکوپیائی روایت برصغیر میں اس کے مرکباتی استعمال کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
عملی طور پر خشک لونگ کی خوراکی مقدار، طبی سفوف اور مرتکز روغن میں واضح فرق رکھنا سب سے اہم ہے۔ خصوصاً روغن کو بے ضرر گھریلو شے سمجھنا درست نہیں۔ مناسب شناخت، محدود مقدار، مصلح، مزاج اور سنگین علامت کی بروقت تشخیص وہ اصول ہیں جو اس مفرد دوا کے ذمہ دارانہ مطالعے اور استعمال کو بہتر بناتے ہیں۔
حوالہ جات
- ابن سینا۔ القانون فی الطب، کتاب دوم، مفردات: قرنفل۔
- محمد بن زکریا الرازی۔ الحاوی فی الطب، خفقان کے ضمن میں قرنفل کا ذکر۔
- ابن البیطار۔ الجامع لمفردات الادویہ والاغذیہ، مادہ: قرنفل۔
- حکیم محمد حسن قرشی۔ طبی فارماکوپیا، جلد اول۔ مکتبہ مشیرالاطباء، لاہور۔
- Ara SA, et al. Clove/Quranful (Syzygium aromaticum L.): A Review on Its Potential Benefits in Unani Medicine, Bioactivities and Current Scientific Applications. Indian Journal of Unani Medicine. 2022;15(2):112–120. doi:10.53390/IJUM.2022.15206.
- Haro-González JN, et al. Clove Essential Oil (Syzygium aromaticum L. Myrtaceae): Extraction, Chemical Composition, Food Applications, and Essential Bioactivity for Human Health. Molecules. 2021;26(21):6387.
- Cortés-Rojas DF, de Souza CRF, Oliveira WP. Clove (Syzygium aromaticum): a precious spice. Asian Pacific Journal of Tropical Biomedicine. 2014;4(2):90–96.
- European Medicines Agency. Community herbal monograph on Syzygium aromaticum, floris aetheroleum.
- National Institute of Diabetes and Digestive and Kidney Diseases. Eugenol (Clove Oil). LiverTox.
ادارتی نوٹ: کلاسیکی اقتباسات مختصر اصل عربی متن سے لیے گئے ہیں اور ان کی وضاحت اردو میں کی گئی ہے۔ مختلف مطبوعہ نسخوں میں صفحہ نمبر بدل سکتے ہیں، اس لیے کتاب، باب اور مادہ کا نام بھی درج کیا گیا ہے۔ جدید تحقیقی حوالے تاریخی یونانی اصطلاحات کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ نباتاتی شناخت، کیمیائی اجزا اور حفاظت کی اضافی وضاحت کے لیے شامل ہیں۔
Post a Comment