مرغِ خانگی کے اجزاء: بیضہ، روغنِ بیضہ، پوست اور سنگدانہ
Gallus gallus domesticus in Unani Medicine

اہم احتیاط: کچا یا نیم پکا انڈا سالمونیلا کا ذریعہ بن سکتا ہے؛ انڈے کو ٹھنڈا محفوظ کریں اور سفیدی و زردی اچھی طرح پکائیں۔ انڈے سے حساسیت رکھنے والے افراد اسے غذائی یا موضعی طور پر استعمال نہ کریں۔ پوستِ بیضہ سے کشتہ یا دوسری دوا گھر پر تیار نہ کریں، اور خون آنے، مسلسل اسہال، شدید پیٹ درد، گہرے زخم یا جلنے کی صورت میں خود علاج کے بجائے اہل معالج سے رجوع کریں۔

مرغِ خانگی دنیا بھر میں پالے جانے والے پرندے کی گھریلو شکل ہے۔ اردو میں نر کو مرغ اور مادہ کو مرغی کہتے ہیں، جبکہ “مرغِ خانگی” پوری نوع کے لیے جامع عنوان کے طور پر استعمال ہوسکتا ہے۔ اس کا حیوانی نام Gallus gallus domesticus اور خاندان Phasianidae ہے۔ عربی طبی متون میں گوشت کے لیے لحم الدجاج، مرغ کے لیے الديك اور انڈے کے لیے بيض الدجاج یا اردو-فارسی روایت میں بیضۂ مرغ کی اصطلاح ملتی ہے۔

طبِ یونانی میں ایک ہی حیوان کے تمام اجزاء کا حکم یکساں نہیں ہوتا۔ گوشت، شوربہ، چربی، زردی، سفیدی، چھلکا اور سنگدانہ اپنے مادّی قوام اور افعال کے اعتبار سے الگ زیرِ بحث آتے ہیں۔ اسی وجہ سے کسی ایک جزو کا مزاج یا فعل پورے پرندے کے ہر حصے پر منطبق نہیں کیا جاتا۔

مرغِ خانگی اور بیضۂ مرغ کا یونانی تعارف

مرغی کا تازہ انڈا غذائے دوائی کے باب میں اہم مقام رکھتا ہے۔ اس میں غذائیت بھی ہے اور اس کے اجزاء کو الگ کرکے بعض ادویاتی یا موضعی تدابیر میں بھی لیا گیا ہے۔ کلاسیکی اطباء نے خصوصاً نیم برشت زردی، پختہ انڈے، سفیدی اور پوست کے قوام میں فرق کیا ہے۔ انڈے کی تازگی، پکانے کی مقدار اور استعمال کرنے والے کی قوتِ ہاضمہ اس کے عملی اثر پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

بیضۂ مرغ کو “مکمل غذا” کہنے کا روایتی مفہوم یہ ہے کہ ایک چھوٹے حجم میں پروٹین، چربی اور متعدد غذائی اجزاء جمع ہوتے ہیں۔ اسے یہ معنی نہیں دینا چاہیے کہ انسان کی تمام غذائی ضرورتیں صرف انڈے سے پوری ہوجاتی ہیں۔ متوازن غذا میں اناج، سبزیاں، پھل، دالیں یا دوسری مناسب غذائیں بھی اپنی جگہ ضروری ہیں۔

انڈے کے بنیادی اجزاء

مرغی کا انڈا تین نمایاں حصوں پر مشتمل ہے: اندرونی زردی، اسے گھیرنے والی سفیدی اور بیرونی معدنی چھلکا۔ ہر حصے کی ترکیب اور قوام مختلف ہونے کی وجہ سے اس کا غذائی یا روایتی استعمال بھی مختلف ہے۔

جزو یونانی نام نمایاں قوام روایتی استعمال کا رخ
پورا انڈا بیضۂ مرغ زردی، سفیدی اور جھلیوں کا مجموعہ غذا، تقویت اور مخصوص غذائی تدابیر
زردی زردیِ بیضۂ مرغ / محّ البیض چکنائی اور غذائی اجزاء سے بھرپور نرم حصہ مغذی غذا، نیم برشت استعمال اور روغن کی تیاری
سفیدی سفیدیِ بیضہ / بیاض البیض پانی اور پروٹین پر مشتمل شفاف مادہ پکانے کے بعد غذا؛ قدیم متون میں بعض موضعی تدابیر
چھلکا پوستِ بیضۂ مرغ بنیادی طور پر کیلشیم کاربونیٹ والا مسام دار خول صاف و سوختہ صورت یا کشتہ میں، صرف مستند تیاری کے ساتھ
سنگدانہ سنگدانۂ مرغ پرندے کا عضلاتی ہاضم عضو بعض مرکبات، بالخصوص معجونِ سنگدانۂ مرغ

بیضۂ مرغ کا مزاج

یونانی مراجع میں انڈے کے مزاج کے بیان میں جزو اور پکانے کی حالت کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ زردی کو عموماً معتدل کے قریب، حرارت و رطوبت کی طرف مائل اور زیادہ غذائیت رکھنے والا بیان کیا جاتا ہے۔ سفیدی اس کے مقابلے میں سرد و تر اور قابض یا مغری قوام کی حامل سمجھی گئی ہے۔ پورے انڈے کا عملی حکم اس بات سے بدلتا ہے کہ وہ کچا، نیم برشت، خوب پکا ہوا، تلا ہوا یا کسی مرکب غذا میں شامل ہے۔

نیم برشت انڈا وہ ہے جس میں سفیدی جم جائے مگر زردی مکمل خشک نہ ہو۔ روایتی غذائی تدبیر میں اسے نرم، زود ہضم اور زردی کی غذائیت محفوظ رکھنے والی صورت سمجھا گیا ہے۔ زیادہ دیر ابالنے یا بھوننے سے قوام سخت اور ہضم نسبتاً دیر طلب ہوسکتا ہے۔ تاہم غذائی جراثیم سے بچاؤ کے لیے عام گھریلو استعمال میں زردی اور سفیدی دونوں اچھی طرح پکانا زیادہ محفوظ ہے، خصوصاً بچوں، حاملہ خواتین، معمر افراد اور کمزور مدافعت رکھنے والوں کے لیے۔

زردیِ بیضۂ مرغ: غذائیت اور افعال

زردی انڈے کا کثیف، روغنی اور زیادہ غذائیت رکھنے والا حصہ ہے۔ اس میں چربی، پروٹین، فاسفولیپڈز، کولین اور چربی میں حل ہونے والے بعض وٹامن پائے جاتے ہیں۔ مقدار نسل، خوراک اور انڈے کے حجم سے بدل سکتی ہے؛ اس لیے پرانے متون میں درج فی صد کو ہر جدید انڈے کی مستقل ترکیب نہیں سمجھنا چاہیے۔

یونانی غذائی تعبیر میں نرم پکی زردی کو مقوی اور مغذی سمجھا گیا ہے۔ کم مقدار میں یہ نقاہت یا بڑھتی غذائی ضرورت کے دوران غذا کا حصہ بن سکتی ہے، بشرطیکہ قوتِ ہاضمہ موافق ہو۔ بہت زیادہ تیل یا گھی کے ساتھ تلنے سے غذا کی ثقالت بڑھتی ہے؛ لہٰذا اسی انڈے کا اثر تیاری بدلنے سے مختلف محسوس ہوسکتا ہے۔

نیم برشت زردی اور قوام

کلاسیکی غذائی بیان میں نیم برشت زردی کو خشک اور سخت زردی کے مقابلے میں زیادہ لطیف سمجھا گیا ہے۔ اس کا نرم قوام حلق سے آسانی سے گزرتا ہے اور معدے میں سخت پختہ انڈے کی طرح زیادہ دیر نہیں ٹھہرتا۔ اگر انڈا مکمل پکانا ضروری ہو تو اسے غیر ضروری حد تک خشک کرنے کے بجائے مناسب حد تک پکانا غذائی قوام کو بہتر رکھتا ہے۔

روغنِ بیضۂ مرغ

روغنِ بیضۂ مرغ زردی سے حاصل ہونے والا روغن ہے۔ یونانی صیدلہ میں اس کی تیاری کے روایتی طریقوں میں حرارت کے ذریعے زردی سے تیل جدا کرنا شامل رہا ہے۔ معیاری تیاری میں خام مادے کی صفائی، حرارت کا ضبط، روغن کی جدائی اور محفوظ ذخیرہ اہم ہیں، کیونکہ حیوانی روغن خراب یا متعفن ہوسکتا ہے۔

اس روغن کا معروف روایتی استعمال سر اور بالوں پر مالش ہے۔ اسے بالوں کی جڑوں اور جلدِ سر کی تغذیہ، خشکی میں نرمی اور بالوں کی نگہداشت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا کردار ایک موضعی روغنی تدبیر کا ہے؛ بال جھڑنے کی وجہ اگر خاندانی، ہارمونی، غذائی، ادویاتی یا جلدی بیماری ہو تو صرف تیل لگانے کے بجائے سبب کی شناخت بھی ضروری ہے۔

استعمال سے پہلے بازو کے ایک چھوٹے حصے پر آزمائش مناسب ہے۔ جلن، سرخی، سوجن یا خارش ہو تو استعمال روک دیں۔ متعفن بو، رنگ میں غیر معمولی تبدیلی یا آلودگی والے روغن کو استعمال نہ کیا جائے اور آنکھ کے اندر نہ لگایا جائے۔

سفیدیِ بیضہ: قوام اور روایتی استعمال

انڈے کی سفیدی بڑی مقدار میں پانی اور مختلف پروٹین پر مشتمل ہوتی ہے۔ کچی حالت میں یہ شفاف اور لزج ہوتی ہے، جبکہ حرارت سے سفید اور جامد ہوجاتی ہے۔ یونانی اصطلاح میں اس کے چپچپے اور تہہ بنانے والے قوام کو بعض مقامات پر مغری اور اس کے سکیڑ پیدا کرنے والے رخ کو قابض کے مفہوم میں بیان کیا گیا ہے۔

قدیم اور روایتی نسخوں میں سفیدی کو بعض سطحی ضمادات اور زخم یا جلنے کی تدابیر میں لکھا گیا ہے۔ یہ تاریخی استعمال اپنی جگہ محفوظ ہے، لیکن کچی سفیدی جراثیم سے پاک طبی dressing نہیں ہے۔ تازہ جلنے پر ٹھنڈا بہتا پانی ابتدائی نگہداشت کے لیے موزوں ہے؛ کچی سفیدی، گھی، ٹوتھ پیسٹ یا غیر جراثیم کش مادہ لگانے سے گریز کرنا چاہیے۔ بڑے چھالے، چہرے یا جوڑ کے جلنے، گہرے زخم یا انفیکشن کی علامات میں طبی مدد ضروری ہے۔

اسی طرح خون تھوکنے، مسلسل آنتوں سے خون، پیچش یا شدید اسہال جیسی علامات کو صرف قابض غذا کے ذریعے دبانا مناسب نہیں۔ یہ علامات علت کی تشخیص چاہتی ہیں۔ مضمون میں سفیدی کے ایسے استعمالات کا ذکر تاریخی ادویاتی روایت کی وضاحت کے لیے ہے، گھریلو نسخے کے طور پر نہیں۔

پوستِ بیضۂ مرغ

انڈے کا بیرونی خول پوستِ بیضۂ مرغ کہلاتا ہے۔ یہ باریک مگر سخت، مسام دار اور بنیادی طور پر کیلشیم کاربونیٹ پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کے اندر جھلیاں ہوتی ہیں جو سفیدی کو چھلکے سے جدا کرتی ہیں۔ تازہ چھلکا خوراک، فضلے اور ماحول سے جراثیمی آلودگی پکڑ سکتا ہے، اس لیے محض پیس لینا اسے محفوظ دوا نہیں بناتا۔

پوستِ بیضہ سوختہ اور کشتۂ بیضۂ مرغ

یونانی دوا سازی میں پوستِ بیضہ کو پاک، مدبر اور مخصوص عملِ احراق یا تکلیس سے گزار کر سوختہ یا کشتہ تیار کیا جاتا ہے۔ یہ عمل عام باورچی خانے میں چھلکا جلا دینے کے برابر نہیں۔ خام مادے کی شناخت، تطہیر، معاون سیالات، حرارت کے مراحل، مکمل تکلیس اور تیار دوا کے معیار کو دیکھا جاتا ہے۔

کشتۂ بیضۂ مرغ قومی یونانی فارمولری میں درج مرکبات میں شامل ہے۔ اس کے افعال میں مقویِ بدن اور مقویِ باہ کا ذکر، جبکہ روایتی مواردِ استعمال میں ذیابیطس، جریان، رقتِ منی اور سیلان الرحم کی اصطلاحات ملتی ہیں۔ یہاں یہ الفاظ فارمولری میں درج یونانی indications کی درست نقل کے طور پر دیے گئے ہیں؛ مقدار اور انتخاب کسی مستند یونانی معالج اور معیاری تیار شدہ دوا کے مطابق ہونا چاہیے۔

پوستِ بیضہ بعض مرکبات میں قابض یا معدنی جزو کے طور پر بھی آتا ہے۔ چونکہ کیلشیم کی ضرورت، گردوں کی کیفیت اور دوسری ادویات ہر شخص میں یکساں نہیں ہوتیں، اس لیے اسے روزمرہ calcium supplement سمجھ کر خود سے استعمال کرنا درست طریقہ نہیں۔

سنگدانۂ مرغ اور معجونِ سنگدانۂ مرغ

سنگدانہ پرندے کے نظامِ ہضم کا مضبوط عضلاتی حصہ ہے جو خوراک کو پیسنے میں مدد دیتا ہے۔ یونانی دوا سازی میں سنگدانۂ مرغ اور اس کی اندرونی جھلی کو مناسب صفائی اور تیاری کے بعد بعض ہاضم مرکبات میں شامل کیا گیا ہے۔ اس جزو کا استعمال محض اس مشابہت پر قائم نہیں کہ مرغ کا سنگدانہ ہضم کرتا ہے؛ فارمولری ترکیب، تیاری اور دوسرے اجزاء مل کر مرکب کا مزاج و فعل بناتے ہیں۔

معجونِ سنگدانۂ مرغ کو روایتی طور پر معدہ و امعاء کی تقویت، ضعفِ معدہ سے وابستہ اسہال اور بعض رطوبی ہاضمی کیفیات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ مختلف کمپنیوں کے نسخوں یا ناموں میں اجزاء، نسبت اور مقدار مختلف ہوسکتی ہے، اس لیے صرف مشترک نام دیکھ کر دو مصنوعات کو بالکل ایک سمجھنا مناسب نہیں۔ مستند لیبل، مکمل اجزاء، مقدار، batch number، expiry اور manufacturer کی معلومات دیکھنا ضروری ہے۔

السر، خونی پیچش، بیکٹیریا یا امیبا سے پیدا ہونے والی بیماری، مسلسل الٹی، وزن میں غیر ارادی کمی اور شدید dehydration الگ تشخیصی مسائل ہیں۔ معجون کو ان تمام بیماریوں کا ایک ہی قطعی علاج قرار دینے کے بجائے اس کے معروف یونانی فعل—تقویتِ معدہ اور قبضِ امعاء—کے دائرے میں بیان کرنا زیادہ درست ہے۔

گوشت، انڈا اور اجزاء: مزاجی فرق

مرغ کے گوشت کا عمومی مزاج اور انڈے کے اجزاء کا مزاج ایک نہیں۔ گوشت کو کلاسیکی غذائی مراجع میں عموماً گرم و تر، عمدہ کیموس پیدا کرنے والا اور نسبتاً سریع الہضم بیان کیا گیا ہے، مگر نر و مادہ، عمر، فربہی اور عضو سے فرق آتا ہے۔ انڈے میں زردی زیادہ غذائیت اور روغن رکھتی ہے، سفیدی زیادہ آبی اور پروٹینی ہے، جبکہ پوست معدنی خول ہے۔

مادہ عمومی یونانی رخ ہضم یا استعمال پر اثرانداز عامل
نوجوان مرغی کا گوشت گرم و تر، جید الغذاء، نسبتاً سریع الہضم عمر، حصہ، چربی اور پکانے کا طریقہ
بوڑھا مرغ گوشت نسبتاً سخت و دیر ہضم؛ مخصوص شوربہ الگ تدبیر طویل پخت، مصالحہ اور شوربے کی ترکیب
نرم پکی زردی مغذی، مقوی اور رطوبت کی طرف مائل تازگی، مقدار اور پختگی
سفیدی سرد و تر، مغری و قابض رخ کچی یا پکی حالت اور فرد کی ہاضمی قوت
پوست یا کشتہ معدنی اور مرکب دوا کا جزو تطہیر، تکلیس، معیار اور مقررہ مقدار

انڈے کی غذائی قدر کو کیسے سمجھیں؟

پورا انڈا پروٹین، چربی، کولین، فاسفورس، سیلینیم اور متعدد وٹامن فراہم کرتا ہے۔ سفیدی میں پروٹین کا بڑا حصہ اور زردی میں چربی، کولین اور چربی میں حل ہونے والے اجزاء زیادہ مرتکز ہوتے ہیں۔ انڈے کا حجم، مرغی کی خوراک اور تیاری اصل غذائی مقدار میں فرق ڈال سکتے ہیں؛ اسی لیے قطعی اعداد دینے کے بجائے مستند غذائی database میں متعلقہ مقدار دیکھی جاتی ہے۔

یونانی نقطۂ نظر میں غذا کی قدر صرف اس کے کیمیائی اجزاء سے نہیں بلکہ قوام، ہضم، کیموس، مقدار اور کھانے والے کے مزاج سے بھی دیکھی جاتی ہے۔ ایک شخص کے لیے نرم پکا انڈا سہل اور مقوی ہوسکتا ہے، جبکہ دوسرے میں زیادہ مقدار، تلی ہوئی شکل یا روغنی مصالحہ ثقالت اور بدہضمی پیدا کرسکتا ہے۔

طبِ یونانی میں مناسب انتخاب

ضعف اور نقاہت کی غذا

جب قوتِ ہاضمہ مناسب ہو تو نرم پکا انڈا کم حجم میں غذائیت فراہم کرسکتا ہے۔ اسے ہر نقاہت میں لازمی نہیں سمجھا جاتا؛ بھوک، معدے کی حالت، بخار، متلی، فضلات اور عمومی تدبیر کو دیکھ کر مقدار منتخب کی جاتی ہے۔ بہت چکنی تیاری کے بجائے سادہ پخت اکثر ہلکی رہتی ہے۔

کمزور معدہ یا ثقالت

سخت ابلا، بار بار تلا ہوا یا زائد گھی میں تیار انڈا بعض افراد کو بوجھل محسوس ہوسکتا ہے۔ چھوٹی مقدار، سادہ تیاری اور کھانے کے بعد کیفیت کا مشاہدہ بہتر رہتا ہے۔ اگر بدہضمی مسلسل ہو تو صرف انڈا ترک یا شامل کرنے کے بجائے پوری غذا اور معدے کی کیفیت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

خشکی اور کم غذائیت

زردی کی روغنی و مغذی نوعیت اسے ایسے غذائی منصوبے میں جگہ دے سکتی ہے جہاں نرمی اور تغذیہ مطلوب ہو۔ تاہم اس کا انتخاب فرد کی عمر، ہضم، دوسری غذاؤں اور کل مقدار کے ساتھ ہوتا ہے؛ کسی ایک جزو کو تنہا تمام کمزوری کا حل نہیں سمجھا جاتا۔

بالوں اور جلد کی نگہداشت

روغنِ بیضہ کا معروف استعمال جلدِ سر کی روغنی مالش ہے۔ اگر مقصد صرف خشکی اور کھردراپن کم کرنا ہو تو کم مقدار کافی ہوسکتی ہے۔ مسلسل بال جھڑنے، گول خالی دھبوں، زخم، پیپ، شدید خارش یا کھوپڑی کی بیماری میں علت معلوم کرنا ضروری ہے۔ کچا انڈا کھلے زخم یا جلی ہوئی جلد پر نہ لگائیں۔

خرید، ذخیرہ اور پکانے کے اصول

  1. صاف، صحیح سالم اور دراڑ سے پاک انڈے منتخب کریں۔
  2. انڈوں کو مناسب refrigeration میں رکھیں اور طویل وقت کمرے کے درجۂ حرارت پر نہ چھوڑیں۔
  3. کچے انڈے کے بعد ہاتھ، برتن اور سطحیں دھوئیں؛ کچی سفیدی یا زردی دوسری تیار غذا سے نہ ملنے دیں۔
  4. عام محفوظ استعمال میں سفیدی اور زردی دونوں کو جمنے تک پکائیں۔ ایسی ترکیب جس میں انڈا کچا رہتا ہو، اس میں pasteurized egg استعمال کریں۔
  5. بدبو دار، رسا ہوا یا غیر معمولی رنگ والا انڈا استعمال نہ کریں۔
  6. روغنِ بیضہ کو مستند کارخانے سے لیں اور لیبل کے مطابق روشنی، حرارت اور آلودگی سے بچائیں۔
  7. کشتہ یا مرکب دوا خریدتے وقت مکمل نام، اجزاء، مقدار، batch، expiry اور manufacturer دیکھیں۔

عام سوالات

کیا “بیضۂ مرغ” صرف نر مرغ سے متعلق ہے؟

نہیں۔ بیضۂ مرغ سے مراد مرغی کا انڈا ہے۔ اردو-فارسی طبی ترکیب میں “مرغ” کبھی اضافت کے اندر نوع کے جامع نام کے طور پر آتا ہے، جبکہ روزمرہ اردو میں انڈا مادہ مرغی ہی دیتی ہے۔

کیا زردی اور سفیدی کا مزاج ایک ہے؟

نہیں۔ زردی روغنی، مغذی اور حرارت و رطوبت کی طرف زیادہ مائل سمجھی جاتی ہے؛ سفیدی زیادہ آبی، سرد و تر اور مغری یا قابض رخ رکھتی ہے۔ تیاری دونوں کے قوام اور ہضم کو بدل دیتی ہے۔

کیا نیم برشت انڈا ہر شخص کے لیے موزوں ہے؟

روایتی غذائی بحث میں نیم برشت صورت کو لطیف سمجھا گیا ہے، لیکن جراثیمی حفاظت کے لحاظ سے کمزور مدافعت، حمل، کم عمری یا بڑھاپے میں اچھی طرح پکا انڈا زیادہ مناسب ہے۔ عام طور پر بھی pasteurized انڈے کے بغیر کچی یا بہتی زردی میں غذائی خطرہ باقی رہ سکتا ہے۔

کیا گھر میں پوستِ بیضہ پیس کر کشتہ بن سکتا ہے؟

نہیں۔ سادہ پسا ہوا چھلکا کشتہ نہیں ہوتا۔ کشتہ سازی ایک باقاعدہ صیدلی عمل ہے جس میں تطہیر، تدبیر، مخصوص حرارت اور معیار کی جانچ شامل ہوتی ہے۔

کیا روغنِ بیضہ صرف زردی سے بنتا ہے؟

روایتی روغنِ بیضۂ مرغ کا بنیادی ماخذ زردی ہے۔ بازار کی مرکب مصنوعات میں دوسرے روغن یا خوشبو شامل ہوسکتے ہیں، اس لیے اجزاء کا لیبل پڑھنا چاہیے۔

معجونِ سنگدانۂ مرغ کا بنیادی یونانی رخ کیا ہے؟

اسے معدہ و امعاء کی تقویت اور ضعفِ معدہ سے متعلق بعض اسہالی کیفیات کے لیے معروف مرکب سمجھا جاتا ہے۔ قطعی انتخاب مریض کی کیفیت اور اصل فارمولری ترکیب کے مطابق کیا جاتا ہے۔

نتیجہ

مرغِ خانگی کی یونانی اہمیت صرف گوشت تک محدود نہیں۔ بیضۂ مرغ غذائے دوائی، زردی ایک مغذی اور روغنی جزو، سفیدی الگ قوام رکھنے والا حصہ، پوست معدنی مادہ اور سنگدانہ بعض مرکبات کا اختصاصی جزو ہے۔ ہر حصے کو اس کے اپنے مزاج، قوام، تیاری اور مقدار کے مطابق سمجھنا طبِ یونانی کے اصولی انداز سے زیادہ موافق ہے۔

روغنِ بیضہ، کشتۂ بیضہ اور معجونِ سنگدانۂ مرغ کے نام روایتی صیدلہ میں معروف ہیں، مگر نام کی یکسانیت ہر بازار ی مصنوع کی یکساں ترکیب یا معیار ثابت نہیں کرتی۔ مستند ماخذ، درست شناخت، معیاری تیاری اور اہل معالج کی رہنمائی ان ادویاتی صورتوں کے ذمہ دارانہ استعمال کی بنیاد ہیں۔

مراجع

  1. ابن سینا۔ القانون في الطب — الدجاج والديك اور غذائی تدابیر کے متعلق ابواب۔
  2. ابن بیطار۔ الجامع لمفردات الأدوية والأغذية — لحوم الدجاج اور بیض کے منقولات۔
  3. Raghubanshi et al. Baiza-e-murgh (Gallus gallus domesticus), an important food product of animal origin and its uses as Ghiza-e-Dawai. International Journal of Unani and Integrative Medicine. 2024;8(2):44–48.
  4. Government of India, Ministry of Health & Family Welfare, Department of AYUSH. National Formulary of Unani Medicine, Part V. 2008 — کشتۂ بیضۂ مرغ۔
  5. Saleem MN, Idris M. Pharmaceutical Evaluation of Procedures for Preparation of Unani Formulation “Roghan Baiza-e-Murgh” and its Physicochemical Analysis. Journal de Afrikana. 2016;3(3):225–232.
  6. National Commission for Indian System of Medicine. Unani Syllabus and Curriculum — پوستِ بیضۂ مرغ کی تدبیر و تکلیس اور کشتہ سازی۔
  7. U.S. Department of Agriculture. FoodData Central — انڈے اور اس کے اجزاء کی غذائی معلومات۔
  8. U.S. Food and Drug Administration. What You Need to Know About Egg Safety۔
  9. World Health Organization. Salmonella (non-typhoidal)۔
مصنف جی ایم لطیف زادے

مصنف کے بارے میں

جی ایم لطیف زادے، UniTib کے شریک بانی اور مصنف ہیں۔ وہ ہیلتھ سرٹ ایجوکیشن سے قدرتی طب و جڑی بوٹیوں اور کلینیکل غذائیت کی پیشہ ورانہ اسناد رکھتے ہیں، جبکہ شانتی مکان آیورویدک ویلنس سنٹر سے آیورویدک ادویاتی پودوں کی تربیت بھی حاصل کر چکے ہیں۔ ان کی پیشہ ورانہ دلچسپی نیچروپیتھی، جڑی بوٹیوں، غذائیت اور آیورویدک ادویاتی پودوں کے ذمہ دارانہ اور تعلیمی مطالعے پر مرکوز ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post