✨ حکیم دوست محمد صابر ملتانی: طب کی دنیا کا ایک انقلاب آفریں نظریہ
حکیم دوست محمد صابر ملتانی، جنہیں آج بھی طبی دنیا صابر ملتانی کے نام سے یاد کرتی ہے، پاکستان کی تاریخ میں ایک غیر معمولی طبی محقق گزرے ہیں۔ ان کا تعلق پاکستان کے شہر ملتان سے تھا اور وہ ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے برسوں کی گہری تحقیق اور لگن سے طب کے میدان میں ایک نئی سوچ، ایک جدید طریقۂ علاج پیش کیا، جسے "نظریہ مفرد اعضاء" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ کوئی معمولی کارنامہ نہیں تھا؛ انہوں نے 1955ء میں یہ نظریہ متعارف کرایا اور اس کی مکمل وضاحت اور تائید میں 16 سے زائد ضخیم کتب اور سینکڑوں تحقیقی مضامین تحریر کیے۔
👨🎓 ابتدائی زندگی اور تعلیمی سفر
حکیم دوست محمد صابر ملتانی کا اصل نام دوست محمد تھا اور وہ اپنے کلام میں "صابر" تخلص کرتے تھے۔ ان کی پیدائش 9 جولائی 1906ء کو ملتان کینٹ کے علاقے میں ایک علمی اور طبی گھرانے میں ہوئی۔ ان کے والد محترم حکیم نور حسین خود بھی ایک جانے مانے حکیم تھے۔
انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم ملتان سے ہی حاصل کی اور انٹر میڈیٹ کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔ مزید تعلیم کے لیے آپ لاہور تشریف لے آئے اور یہاں پنجاب یونیورسٹی سے اردو فاضل اور عربی فاضل جیسے اہم امتحانات کامیابی سے مکمل کیے۔
طب کی تعلیم کا آغاز انہوں نے اپنے ماموں سے کیا، جو خود بھی ایک تجربہ کار حکیم تھے۔ اس کے بعد، آپ نے لاہور میں انجمن حمایت اسلام طبیہ کالج سے طب کے اعلیٰ مدارج طے کیے اور حکیم حاذق، زبدۃ الحکماء اور ممتاز الاطباء کے امتحانات پاس کیے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ رسمی تعلیم اور روایتی حکمت دونوں پر مکمل دسترس رکھتے تھے۔
🧭 ہومیوپیتھی سے انحراف اور تحقیق کا آغاز
اپنی تعلیمی تکمیل کے بعد، حکیم صابر ملتانی خانیوال کی تحصیل عبد الحکیم چلے گئے اور وہاں تقریباً آٹھ سال تک ہومیوپیتھی کے مطابق پریکٹس کرتے رہے۔ تاہم، ایک گہرے اور فطری معالج ہونے کے ناطے، وہ ہومیوپیتھی کے اصولوں سے مطمئن نہیں تھے۔ انہیں محسوس ہوا کہ اس کی بنیاد غیر علمی ہے اور یہ اپنے ہی بنائے ہوئے اصولوں کے خلاف جا رہی ہے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ان کا دل اس طریقہ علاج سے اچاٹ ہو گیا۔
1929ء میں آپ واپس اپنے ماموں کے مطب پر آئے اور وہاں پر حکیم احمد دین کے طبی لٹریچر کا بغور مطالعہ شروع کیا۔ اس مطالعہ نے انہیں یہ احساس دلایا کہ موجودہ طب کے کئی پہلوؤں میں خامیاں موجود ہیں، جس کے بعد انہوں نے مایوس ہو کر ایک بار تو طب کو خیر باد کہہ دیا۔
1930ء میں، انہوں نے حکیم احمد دین کے ساتھ مل کر دیگر طبی طریقوں کی تحقیق اور مطالعہ جاری رکھا۔ انہوں نے حکیم احمد دین کے پیش کردہ جدید نظریہ طب کا بھی گہرائی سے جائزہ لیا، لیکن وہ اس سے مکمل طور پر متفق نہ ہو سکے کیونکہ اس میں انسانی ڈھانچے اور ساخت کی کوئی واضح تشریح موجود نہیں تھی، اور یہ صرف خون کو تمام اعضاء کی غذا تسلیم کرتا تھا۔ اسی اختلاف کی بنا پر، جب اس وقت کے اطباء نے ان کے خیالات سے اتفاق نہ کیا، تو انہوں نے دوبارہ فن طب کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔
💡 نظریہ مفرد اعضاء کی دریافت (ایجاد ظہور نظریہ مفرد اعضاء)
طب کو خیر باد کہنے کے بعد بھی، ان کا جستجو کا سفر جاری رہا۔ ایک اہم واقعہ ان کے نظریہ کی بنیاد بنا۔ وہ ایک ہیضہ کے مریض کا علاج کر رہے تھے؛ جب انہوں نے طب جدید کے اصولوں کے مطابق دوا دی تو مرض میں شدت آ گئی، لیکن جب انہوں نے فوراً طب قدیم کے اصولوں کے مطابق علاج کیا، تو مریض فوراََ صحت یاب ہو گیا۔
یہ تجربہ ان کے لیے ایک نیا دروازہ کھولنے کا سبب بنا۔ انہوں نے دوبارہ طب قدیم کا گہرائی سے مطالعہ شروع کیا اور اس دوران ایک بنیادی حقیقت کو پہچان لیا:
اخلاط (Humours) اور مفرد اعضاء (Single Organs) درحقیقت ایک ہی چیز کے دو مختلف نام ہیں۔ یعنی، مفرد اعضاء ہی مجسم اخلاط ہیں۔
جب انہوں نے اس حقیقت کو انسانی جسم سے ہم آہنگ کیا، تو یہ بات سامنے آئی کہ جب بھی کسی مخصوص خلط (بلغم، صفراء، سوداء) کی پیدائش کے لیے کوئی غذا یا دوا استعمال کی جاتی ہے، تو اس کا اثر براہ راست متعلقہ مفرد عضو میں تحریک (Stimulation) کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے:
- بلغم کی پیدائش سے اعصاب و دماغ میں تحریک ہوتی ہے۔
- صفراء کی پیدائش سے جگر و غدد (Glands) میں تحریک ہوتی ہے۔
- سوداء کی پیدائش سے قلب و عضلات (Heart and Muscles) و متعلقہ اعضاء میں تحریک پیدا ہو جاتی ہے۔
اسی سائنسی اور فطرتی اصول کو بنیاد بنا کر حکیم صابر ملتانی نے 1955ء میں اپنا معرکتہ الآراء "نظریہ مفرد اعضاء" اہل علم اور معالجین کے سامنے پیش کیا، جس نے بعد میں طب کی دنیا پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
📚 تصانیف و علمی میراث
حکیم دوست محمد صابر ملتانی کی علمی خدمات بہت وسیع ہیں۔ انہوں نے اپنے نظریے کی وضاحت، توثیق اور عملی اطلاق پر بے شمار کتب تحریر کیں، جن میں سے چند اہم تصانیف درج ذیل ہیں:
- کلیات تحقیقات صابر ملتانی (2 جلد)
- صتحقیقات المجربات (نظریہ)
- مبادیات طب
- اسلام اور جنسیات
- تحقیقات تپ دق و زہر (جس میں سل اور خنازیر شامل ہیں)
- تحقیقات نزلہ و زکام وبائی
- فرنگی طب غیر علمی اور غلط ہے
- تحقیقات علم الادویہ
- ملیریا کوئی بخار نہیں
- تحقیقات خواص المفردات
- تحقیقات تین انسانی زہر
🤝 تلامذہ اور نظریے کی توسیع
حکیم دوست محمد صابر ملتانیؒ نے 3 مئی 1972ء کو وفات پائی (بعض محققین 30 مئی 1980ء بھی کہتے ہیں)، لیکن ان کا مشن یہیں ختم نہیں ہوا۔ ان کے شاگردوں نے ان کے نظریے کو ایک تحریک کی شکل دے دی اور اسے عوام الناس اور معالجین میں متعارف کرانے کا بیڑا اٹھایا۔
ان کے شاگردوں میں حکیم صدیق شاہینؒ اور حکیم الحاج حکیم محمد شریف دنیا پوریؒ سرفہرست تھے، جنہوں نے حکیم غلام رسول بھٹہ، حکیم برکت علی بھلی، حکیم محمد یٰسین چاولہ، حکیم غلام نبی، حکیم الٰہی بخش عباسی اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ اس مشن کو آگے بڑھایا۔
انہوں نے اپنے استاد کی تحقیقات کو عوام تک پہنچانے کے لیے مزید 15 کتب لکھیں، ماہانہ "ترجمان نظریہ مفرد اعضاء" کا اجراء کیا، ملک بھر میں طبی حلقے منظم کیے، اور غذا سے علاج کے مفت کیمپوں کا سلسلہ شروع کیا۔ ان تلامذہ کی چند اہم کتب میں شامل ہیں:
- تعارف نظریہ مفرد اعضاء
- رہبر نظریہ مفرد اعضاء
- کلیات نظریہ مفرد اعضاء
- دستور علاج
- غذا سے علاج
- میرا مطب
- امراض معد و امعا
- امراض نسواں
- مجربات نظریہ مفرد اعضاء
حکیم دوست محمد صابر ملتانی کی زندگی طب یونانی کی اصلاح اور اسے ایک مضبوط، سائنسی بنیاد فراہم کرنے کی کوششوں سے عبارت ہے۔ ان کا "نظریہ مفرد اعضاء" آج بھی ہزاروں معالجین کے لیے مشعل راہ ہے، جو طب کی دنیا میں ان کی غیر فانی میراث کا ثبوت ہے۔
📝 حوالہ جات (Citations)
- صابر ملتانی، دوست محمد۔ (1955ء)۔ کلیات تحقیقات صابر ملتانی (جلد اول و دوم)۔ مرکزی دفتر نظریہ مفرد اعضاء، لاہور۔ (حکیم صابر ملتانی کا بنیادی کام جو نظریے کی وضاحت کرتا ہے)
- صابر ملتانی، دوست محمد۔ (مختلف سال)۔ تحقیقات المجربات۔ مرکزی دفتر نظریہ مفرد اعضاء، لاہور۔
- دنیا پوری، حکیم محمد شریف۔ (مختلف سال)۔ کلیات نظریہ مفرد اعضاء۔ (حکیم صابر ملتانی کے شاگرد کی طرف سے نظریے کی شرح اور ترویج)
- شاہین، حکیم صدیق۔ (مختلف سال)۔ رہبر نظریہ مفرد اعضاء۔ (نظریہ مفرد اعضاء پر ایک تفصیلی رہنما کتاب)
- حوالہ برائے سوانح اور تاریخِ پیدائش/وفات: مختلف علمی و طبی جریدے اور ماہنامہ ترجمان نظریہ مفرد اعضاء کے تاریخی شمارے۔ (چونکہ تاریخ وفات میں اختلاف ہے (1972ء بمقابلہ 1980ء)، لہٰذا مختلف ذرائع کا حوالہ ضروری ہے۔)