پیاز (بصل): مزاج، خواص اور طب یونانی و آیوروید میں استعمال
Onion in Unani and Ayurvedic Medicine

اہم احتیاط: پیاز کا رس آنکھ، کان، ناک کے اندر، کھلے زخم یا جلی ہوئی جلد پر نہ ڈالیں۔ آنکھ میں درد، دھندلاہٹ یا چوٹ، کان سے پیپ یا خون، کان کے پردے کا مسئلہ، شدید الرجی، سانس کی تنگی یا چہرے کی سوجن فوری طبی جانچ چاہتے ہیں۔ خام پیاز بعض لوگوں میں تیزابیت، نفخ اور آنتوں کی حساسیت بڑھا سکتی ہے۔ حمل، کم عمر بچوں، جگر و گردے کی بیماری یا خون پتلا کرنے والی دوا کے ساتھ پیاز کے مرتکز عرق، کیپسول یا دوائی مقدار خود استعمال نہ کریں؛ کھانے میں معمول کی مقدار اور مرتکز دوا ایک چیز نہیں۔

پیاز یا بصل کی شناخت

پیاز کا نباتاتی نام Allium cepa L. ہے۔ اردو اور فارسی میں پیاز، عربی میں بصل اور آیوروید میں پلاندو یا اُلّی اس کے معروف نام ہیں۔ جدید نباتاتی درجہ بندی میں اسے Amaryllidaceae خاندان میں رکھا جاتا ہے، جبکہ پرانی نباتاتی کتابوں میں Liliaceae بھی ملتا ہے۔ طب یونانی میں بنیادی طور پر اس کا زیرِ زمین بلب بطور غذا و مفرد استعمال ہوتا ہے۔

پیاز کو صرف دوا سمجھنا بھی ادھورا ہے اور صرف سبزی سمجھنا بھی۔ مقدار، تیاری اور مریض کی کیفیت سے اس کی حیثیت بدلتی ہے۔ سالن میں اچھی طرح پکی ہوئی معتدل مقدار غذا ہے، جبکہ کچا رس، مرتکز عرق، بیج یا کسی مرکب میں زیادہ مقدار دوائی اثرات پیدا کرسکتی ہے۔ یہی فرق فوائد اور مضرت دونوں سمجھنے کے لیے بنیادی ہے۔

پیاز کا مزاج: ایک ضروری علمی وضاحت

برصغیر کی متعدد متداول مفردات میں پیاز کو گرم و خشک، عموماً دوسرے یا تیسرے درجے کے قریب لکھا جاتا ہے۔ لیکن تمام کلاسیکی مصادر ایک ہی عبارت استعمال نہیں کرتے۔ ابن سینا بصل کو تیسرے درجے میں گرم کہتے ہیں اور اس میں رطوبتِ فضلیہ بھی بیان کرتے ہیں۔ لہٰذا “ابن سینا کے مطابق پیاز لازماً گرم خشک ہے” کہنا مکمل درست نہیں۔

اس اختلاف کو عملی حالت سے سمجھا جاسکتا ہے۔ کچی پیاز کی حرافت، تقطیع، جلاء اور نفخ نمایاں ہیں۔ خشک پیاز تازہ کی نسبت زیادہ تیز ہوسکتی ہے، جبکہ پکانے سے حرافت کم اور غذائی پہلو بڑھتا ہے۔ پیاز کی مجموعی کیفیت کو نوع، رنگ، تازگی، مقدار اور طریقۂ طبخ کے ساتھ بیان کرنا ایک جامد درجہ لکھنے سے زیادہ مفید ہے۔

ابن سینا: بصل کی اصل عبارت اور مزاج

ابن سینا نے القانون فی الطب کے مفردات میں بصل کے تحت لکھا:

«الطبع: حار في الثالثة، وفيه رطوبة فضلية»

یعنی پیاز تیسرے درجے میں گرم ہے اور اس میں زائد یا فضلی رطوبت بھی پائی جاتی ہے۔ یہ عبارت بعد کی سادہ “گرم خشک” نسبت کو علمی طور پر متوازن کرتی ہے۔ رطوبتِ فضلیہ سے مراد یہ نہیں کہ پیاز ہر گرم یا خشک کیفیت کے لیے مرطب دوا ہے؛ اس کی تیزی اور حرارت اپنی جگہ قائم رہتی ہے۔

وہ قسم اور حالت کا فرق بھی واضح کرتے ہیں:

«والمأكول منه ما كان أطول، فهو أحرف، والأحمر أحرف من الأبيض، واليابس من الرطب والنيء من مشوي»

مفہوم یہ ہے کہ لمبی قسم زیادہ تیز، سرخ سفید سے زیادہ تیز، خشک تازہ سے زیادہ تیز اور کچی بھنی ہوئی سے زیادہ تیز ہوتی ہے۔ اس مشاہدے سے واضح ہے کہ خام و پختہ، سرخ و سفید اور تازہ و خشک پیاز کو ایک ہی درجے میں رکھنا مناسب نہیں۔

ابن سینا: افعال، غذا اور مضرت

ابن سینا بصل کو ملطف، مقطع، جالی اور مفتح لکھتے ہیں۔ ان افعال کا تعلق اس کی تیزی سے ہے: ملطف غلیظ مادے کو لطیف کرنے، مقطع لزوجت کو کاٹنے، جالی سطح کو صاف کرنے اور مفتح بعض سدد کھولنے کی روایتی قوت بیان کرتا ہے۔ یہ اصطلاحات جدید “اینٹی بائیوٹک” یا ہر سوزش کے علاج کا مترادف نہیں۔

غذائیت کے متعلق ان کا اہم جملہ ہے:

«ولا يتولد من غير المطبوخ منه غذاء يعتد به... وغذاء الذي طبخ أيضاً غليظ»

یعنی کچی پیاز سے قابلِ اعتنا غذائیت پیدا نہیں ہوتی، جبکہ پکی ہوئی کی غذا بھی غلیظ ہے۔ اس کا عملی مفہوم یہ ہے کہ کچی پیاز کو زیادہ تر تیز غذائی مفرد سمجھا جائے، اور پکی پیاز نسبتاً زیادہ غذائیت دیتی ہے مگر کمزور ہضم میں مقدار پھر بھی دیکھی جائے۔

ابن سینا کثرتِ استعمال کے ساتھ نفخ، پیاس، سر درد اور غیر موافق خلط کے امکان کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ اس لیے “پیاز جتنی زیادہ کھائیں اتنی بہتر” یونانی اصول نہیں۔

کچی، پکی، بھنی اور اچاری پیاز میں فرق

صورتغالب یونانی وصفعملی احتیاط
کچی پیازحرافت، تقطیع، اشتہا اور نفخ زیادہگرم معدہ، تیزابیت اور حساس آنت میں کم مقدار
پکی پیازتندی کم، غذائی پہلو زیادہزیادہ تیل اور بہت بھاری سالن ہضم پر بوجھ بن سکتا ہے
بھنی پیازخام تیزی کم، نرمی زیادہجلی ہوئی یا بہت خشک شکل موافق نہیں
اچاری پیازسرکہ حرافت کو بدلتا اور اشتہا بڑھا سکتا ہےنمک، تیزابیت اور گرم معدہ کا لحاظ ضروری
خشک سفوفتازہ کی نسبت مرتکز اور تیزاسے تازہ پیاز کے برابر مقدار نہ سمجھیں

محمد بن زکریا رازی: اشتہا اور معدہ

رازی کی الحاوی فی الطب مختلف متقدمین کے اقوال اور رازی کے مشاہدات کا جامع ذخیرہ ہے۔ معدہ اور اشتہا کے باب میں محفوظ عبارت ہے:

«البصل مشه للطعام خاصة إذا كان نيّاً، وإذا دق وشم شهى الطعام»

یعنی کچی پیاز بالخصوص اشتہا ابھارنے والی سمجھی گئی، اور اس کی تیز بو بھی رغبتِ طعام پیدا کرسکتی ہے۔ اسی مقام پر پیاز کی مرارت اور قبض کے سبب معدہ کی بعض کمزور صورتوں میں تقویت اور اشتہا کھولنے کا قول نقل کیا گیا ہے۔

یہ فائدہ ہر کم بھوک میں یکساں نہیں۔ گرم معدہ، جلن، ریفلاکس، منہ یا معدہ کے زخم اور تیز پیاس میں کچی پیاز تکلیف بڑھا سکتی ہے۔ رازی کی کتاب خود امراض اور مزاج کے فرق پر قائم ہے؛ ایک منقول فعل کو ہر مریض کے لیے عمومی نسخہ نہیں بنایا جاسکتا۔

رازی: تلیین کا محتاط مفہوم

الحاوی کے مسہلات و ملینات کے باب میں مختصر عبارت «والبصل ملين للبطن» ملتی ہے، یعنی پیاز طبیعت میں نرمی لاسکتی ہے۔ یہ قوی مسہل ہونے کا دعویٰ نہیں۔ پکی پیاز، کھانے کے روغن اور مجموعی غذا کا اثر خام پیاز سے مختلف ہوسکتا ہے۔

قبض میں صرف پیاز پر انحصار مناسب نہیں؛ غذا کی رطوبت، روغن، حرکت، پانی اور اصل سبب دیکھا جائے۔ پیاز سے نفخ یا درد بڑھے تو اسے ملین سمجھ کر مقدار نہ بڑھائی جائے۔

ابن بیطار: غذا، اشتہا اور بصل کی جامع روایت

ابن بیطار نے الجامع لمفردات الادویہ والاغذیہ میں بصل کے متعلق سابق اطباء کے اقوال جمع کرکے اس کی غذائی اور دوائی دونوں حیثیت محفوظ کی۔ متداول مطبوعہ عبارت میں آتا ہے:

«البصل فاتق لشهوة الطعام، ملطف، معطش، ملين للبطن»

یعنی پیاز اشتہا کھولنے والی، ملطف، پیاس پیدا کرنے والی اور طبیعت نرم کرنے والی سمجھی گئی۔ اس مجموعے میں پکی یا مسلوق پیاز کے اثرات خام پیاز سے الگ ملتے ہیں۔ “معطش” کا ذکر یاد دلاتا ہے کہ اس کی حرارت اور حرافت گرم مزاج یا شدید پیاس والے شخص میں مضرت بھی پیدا کرسکتی ہے۔

ابن بیطار جامع اور ناقد دونوں ہیں؛ ان کی کتاب میں جالینوس، ديسقوريدوس اور دوسرے اطباء کے اقوال نام کے ساتھ آتے ہیں۔ اس لیے ہر نقل کو ابن بیطار کا ذاتی تجربہ کہنا درست نہیں۔ مضمون میں ان کا حوالہ مفردات کی جامع روایت کے طور پر دیا گیا ہے۔

حکیم محمد حسن قرشی: قرابادینی اور غذائی استعمال

حکیم محمد حسن قرشی کی طبی فارماکوپیا برصغیر میں مفرد و مرکب یونانی ادویہ اور مجربات کی تدوینی روایت کا اہم ماخذ ہے۔ بصل یا اس کے اجزا کو کسی مرکب میں دیکھتے وقت صرف “پیاز” کا نام کافی نہیں؛ خام رس، پکی غذا، بیج، روغن یا مرکب میں شامل مقدار کی تاثیر الگ ہوسکتی ہے۔

قرابادینی نسخے مریض کے مزاج، مرض، قوت اور مقدار کے ساتھ پڑھے جاتے ہیں۔ پیاز کو شہد، سرکہ، گوشت یا کسی دوسرے مفرد کے ساتھ ملانے سے پورے مرکب کی کیفیت بدلتی ہے۔ قرشی صاحب کی طرف کوئی غیر مصدقہ لفظ بہ لفظ قول منسوب نہیں کیا گیا؛ کتاب کو عملی قرابادینی حوالہ کے طور پر درج کیا گیا ہے۔

اہم یونانی افعال

  • ملطف و مقطع: غلیظ اور لزج مادے کو لطیف کرنے اور کاٹنے کی روایتی نسبت۔
  • جالی و مفتح: جلاء اور بعض سدد کھولنے کی کلاسیکی قوت۔
  • مُشہّی: بالخصوص کچی یا تیز پیاز سے رغبتِ طعام کا امکان۔
  • ملین: بعض صورتوں میں طبیعت نرم کرنے کا ہلکا غذائی اثر۔
  • مدرِ بول: پکی پیاز کے متعلق روایتی ذکر، مگر رکاوٹ کا علاج نہیں۔
  • مقویِ باہ: مسلوق یا غذائی مرکبات میں تاریخی نسبت، قطعی علاج نہیں۔

ان افعال کو جدید بیماریوں کے یقینی علاج میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔ مثلاً مدرِ بول کا لفظ گردے کی خرابی یا پیشاب بند ہونے کا علاج نہیں، اور مقویِ باہ کا تاریخی وصف بانجھ پن یا جنسی بیماری کی تشخیص کو بدل نہیں سکتا۔

ہاضمہ اور اشتہا میں استعمال

سرد، بلغمی اور کم اشتہا والی بعض کیفیات میں تھوڑی کچی یا ہلکی پکی پیاز رغبتِ طعام بڑھا سکتی ہے۔ سرکہ یا کھٹے مصلح کے ساتھ اس کی تیزی کا انداز بدلتا ہے، مگر ہر معدہ کے لیے سرکہ موزوں نہیں۔ نفخ کی استعداد ہو تو اچھی طرح پکانا اور مقدار کم رکھنا بہتر ہوسکتا ہے۔

پیاز کھانے کے بعد بھاری پن، سینے کی جلن، کھٹی ڈکار یا پیٹ میں درد ہو تو اسے “ہاضم” سمجھ کر جاری نہ رکھیں۔ یونانی معالج ضعفِ معدہ، سوء مزاجِ حار، ریح اور سدد کو الگ دیکھتا ہے۔

بلغمی کیفیات اور تنفس

بصل کی تیزی، تقطیع اور تلطیف کی وجہ سے کلاسیکی متون میں غلیظ بلغمی کیفیات اور حلق و صدر کے بعض استعمال ملتے ہیں۔ یہ تاریخی اصول سرد بلغمی مزاج اور لزوجت کے تناظر میں ہے، نہ کہ ہر کھانسی، دمہ، نمونیا یا گلے کے انفیکشن کا گھریلو علاج۔

سانس پھولنے، ہونٹ نیلے ہونے، نگلنے میں شدید دشواری یا تیز بخار میں پیاز اور شہد پر انحصار خطرناک ہے۔ معمول کی غذا میں پکی پیاز الگ چیز ہے؛ مرتکز رس یا قہوہ دوائی استعمال ہے اور مقدار معالج طے کرے۔

پیشاب، حیض اور باہ کے متعلق روایتی دعوے

ابن سینا اور ابن بیطار کی روایت میں بصل کے مدرِ بول، مدرِ طمث اور باہ سے متعلق اوصاف ملتے ہیں۔ ان کا مطلب یہ نہیں کہ پیاز پیشاب کی رکاوٹ، گردے کی پتھری، بے قاعدہ حیض یا بانجھ پن کا ثابت شدہ واحد علاج ہے۔ یہ علامات متعدد علل رکھتی ہیں اور بعض میں فوری جانچ ضروری ہے۔

حمل کے امکان یا غیر معمولی رحم سے خون آنے میں حیض آور مفردات خود استعمال نہ کیے جائیں۔ معلوم گردوی یا قلبی کمزوری میں مدرِ بول جڑی بوٹی یا مرتکز پیاز عرق بھی معالج کے بغیر مناسب نہیں۔

جلد اور بالوں کے خارجی استعمال

کلاسیکی کتب میں پیاز کے جلاء، جلد سرخ کرنے اور داء الثعلب کے بعض خارجی استعمال مذکور ہیں۔ اس کی تیزی جلد میں جلن، چھالے یا حساسیت پیدا کرسکتی ہے، اس لیے خام رس کو وسیع رقبے، زخمی جلد یا بچوں کی جلد پر نہ لگائیں۔ روایتی نسبت کو محفوظ انداز میں بیان کرنا براہِ راست نسخہ تجویز کرنے کے برابر نہیں۔

بال گرنے کی ہر صورت ایک جیسی نہیں۔ اچانک گول دھبے، سرخی، پیپ، درد یا تیزی سے بال کم ہونا معائنے کا تقاضا کرتا ہے۔ کسی تیار topical چیز کے استعمال میں بھی اجزا اور برداشت دیکھی جائے۔

آنکھ اور کان میں پیاز کا رس کیوں تجویز نہیں کیا گیا؟

قدیم مفردات میں پیاز کے رس کو شہد کے ساتھ آنکھ یا کان میں ڈالنے کی روایات ملتی ہیں۔ یہ تاریخی مواد اس زمانے کے صیدلی تناظر سے تعلق رکھتا ہے۔ گھریلو رس جراثیم سے پاک، معیاری یا آنکھ اور کان کے لیے تیار شدہ محلول نہیں ہوتا، اور پیاز کی حرافت حساس بافت کو شدید جلا سکتی ہے۔

اسی لیے اس مضمون میں ان طریقوں کو علاج کے طور پر شامل نہیں کیا گیا۔ آنکھ کی سفیدی، موتیا، دھندلا نظر آنا، کان کا درد، پیپ یا سماعت کم ہونا مستند جانچ چاہتے ہیں۔ کان کا پردہ پھٹا ہو تو کسی بھی نامعلوم قطرے سے نقصان بڑھ سکتا ہے۔

مصلح، مقدار اور موافق صورت

پیاز کی حرافت کم کرنے کے لیے پکانا، بھوننا، پانی سے دھونا یا مناسب غذا کے ساتھ لینا روایتی تدابیر ہیں۔ سرکہ بعض متون میں مصلح یا اشتہا بڑھانے والی صورت ہے، لیکن تیزابیت اور گرم معدہ میں موافق نہیں۔ انار کا رس یا دوسری ترش اشیا بھی ہر شخص کے لیے یکساں نہیں۔

روزمرہ سالن یا سلاد کی معتدل مقدار کو دوائی مقدار نہ سمجھا جائے۔ پیاز کے سفوف، مرتکز عرق، کیپسول اور بیج میں کثافت مختلف ہوتی ہے؛ اس لیے کھانے کے چمچوں میں عمومی “طبی خوراک” دینا مناسب نہیں۔

کن مزاجوں میں احتیاط زیادہ ہے؟

گرم مزاج، صفراوی علامات، شدید پیاس، منہ یا معدہ کی جلن، بار بار سر درد اور تیزابیت والے افراد کچی تیز پیاز سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں۔ سرد بلغمی اور کم اشتہا والی بعض کیفیات میں چھوٹی مقدار موافق ہوسکتی ہے، مگر نفخ غالب ہو تو خام پیاز پھر بھی تکلیف دے سکتی ہے۔

یونانی اصول میں غذا صرف شخص کے فطری مزاج سے نہیں بلکہ موجودہ سوء مزاج، موسم، عمر، مقدار اور ترکیب سے منتخب ہوتی ہے۔ اسی لیے ایک ہی پیاز کسی کے لیے مشہی اور دوسرے کے لیے مضرِ معدہ ہوسکتی ہے۔

آیوروید میں پلاندو

آیوروید میں پیاز کو پلاندو کہا جاتا ہے اور اسے شاک ورگ یعنی سبزیوں کے گروہ میں بیان کیا گیا ہے۔ چرک سمہتا کے غذائی باب میں پلاندو کو کف بڑھانے والا، وات کو کم کرنے والا، پِتّ کے لیے غیر موافق، غذا کا اچھا ساتھی اور قوت دینے والا بتایا گیا ہے۔ اس بیان میں مقدار اور پکانے کی صورت اہم ہیں۔

آیورویدک تعبیر میں اسے عموماً گرو یعنی قدرے بھاری اور سنیگدھ یعنی روغنی وصف کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ اس کے رس میں مدھر کے ساتھ کٹو پہلو اور وِیریہ کے بارے میں متون و تشریحات میں اُشن یا انُشن کی تفصیل ملتی ہے۔ اسے یونانی “گرم و تر” یا “گرم و خشک” کا سیدھا مترادف نہیں بنانا چاہیے۔

وات، پِتّ اور کف کے مطابق آیورویدک تدبیر

دوشروایتی رجحانعملی صورت
واتسنیگدھ اور پکی صورت سے وات کو سکون مل سکتا ہےنرم پکی مقدار؛ خام سے نفخ ہو تو اجتناب
پِتّحرافت اور حرارت پِتّ کو بڑھا سکتی ہےکچی تیز پیاز کم، جلن میں ترک
کفگرو و سنیگدھ اوصاف کف بڑھا سکتے ہیںبھاری روغنی تیاری اور زیادہ مقدار سے احتیاط

چرک کی عبارت اور بعد کے نِگھنٹو ایک جیسے لفظ استعمال نہیں کرتے، اس لیے آیورویدک فیصلہ بھی پرکرتی، وکرتی، اگنی، موسم اور تیاری کے مطابق ہوگا۔ پیاز کو ساتوک، راجس یا تامس غذائی بحث میں دیکھنے والی روایات بھی موجود ہیں؛ یہ روحانی یا طرزِ زندگی کی درجہ بندی ہے، طبی گُن اور دوش کی پوری بحث کا بدل نہیں۔

غذا کے طور پر مناسب استعمال

  • کمزور ہضم میں تھوڑی مقدار سے آغاز کرکے اچھی طرح پکی پیاز دیکھی جاسکتی ہے۔
  • کچی پیاز کے ساتھ جلن یا نفخ ہو تو مقدار کم کریں یا پکی صورت اختیار کریں۔
  • سالن میں بہت زیادہ تیل، مرچ اور جلی ہوئی پیاز کو خود پیاز کے فائدے کے برابر نہ سمجھیں۔
  • سلاد میں تازہ، صاف اور مناسب مقدار استعمال کریں؛ کٹی پیاز کو طویل وقت گرم جگہ نہ رکھیں۔
  • دوائی عرق یا سفوف کو روزمرہ خوراک کا سادہ متبادل نہ بنائیں۔

اصل مضمون کے اہم دعووں کی درستگی

پیاز کو “خون پتلا کرنے”، بلڈ پریشر و کولیسٹرول لازماً معمول پر لانے، دل کے دورے روکنے، کینسر سے یقینی بچانے، گردے صاف کرنے، ہر انفیکشن ختم کرنے یا سپرم لازماً بڑھانے والی دوا کہنا حذف کردیا گیا ہے۔ یہ الفاظ کلاسیکی یونانی افعال کا درست ترجمہ نہیں اور کسی فرد کے علاج کا قابلِ اعتماد وعدہ بھی نہیں۔

اسی طرح پیاز کو گڑ کے ساتھ وزن بڑھانے اور گرم پانی کے ساتھ چربی گھٹانے کا دو طرفہ یقینی نسخہ نہیں کہا گیا۔ وزن اور قوت میں پوری غذا، ہضم، حرکت، نیند اور مزاج دیکھا جاتا ہے؛ ایک مفرد دونوں متضاد نتائج کی ضمانت نہیں دیتا۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

پیاز کا حتمی مزاج گرم خشک ہے یا گرم تر؟

متون میں اختلاف ہے۔ ابن سینا واضح طور پر تیسرے درجے کی حرارت اور رطوبتِ فضلیہ لکھتے ہیں، جبکہ بعض بعد کے مفردات گرم و خشک درج کرتے ہیں۔ قسم، تازگی اور طبخ سے اثر بدلتا ہے؛ مضمون میں دونوں نسبتیں ان کے اصل سیاق کے ساتھ رکھی گئی ہیں۔

سرخ پیاز زیادہ گرم ہے یا سفید؟

ابن سینا کے مطابق سرخ سفید سے زیادہ تیز ہے۔ تیزی اور مزاجی اثر ایک ہی چیز نہیں، مگر گرم معدہ اور جلن والے شخص کے لیے سرخ خام پیاز زیادہ تکلیف دہ ہوسکتی ہے۔

کیا پکی پیاز کم فائدہ مند ہے؟

نہیں؛ اس کی حیثیت بدلتی ہے۔ پکانے سے حرافت کم اور غذائی پہلو بڑھ سکتا ہے۔ کچی پیاز کے تیز افعال اور پکی پیاز کی غذائیت کو الگ سمجھنا چاہیے۔

کیا پیاز کا رس آنکھ یا کان میں ڈالا جاسکتا ہے؟

نہیں۔ تاریخی متون میں ذکر کے باوجود گھریلو رس غیر معیاری اور شدید محرک ہے۔ آنکھ یا کان میں اسے ڈالنا محفوظ نہیں؛ متعلقہ علامت کی جانچ ضروری ہے۔

کیا روزانہ پیاز کھانا ہر مزاج کے لیے مناسب ہے؟

ہر شخص کے لیے مقدار یکساں نہیں۔ برداشت اچھی ہو تو معمول کی غذائی مقدار لی جاسکتی ہے؛ جلن، نفخ، الرجی یا گرم صفراوی کیفیت میں خام پیاز کم یا ترک کی جاسکتی ہے۔

خلاصہ

پیاز یا بصل ایک اہم غذائی مفرد ہے جس کی تاثیر شکل اور مقدار سے بدلتی ہے۔ ابن سینا اسے تیسرے درجے میں گرم اور صاحبِ رطوبتِ فضلیہ کہتے، سرخ کو سفید اور کچی کو بھنی ہوئی سے زیادہ تیز قرار دیتے ہیں۔ رازی کی جامع روایت میں اشتہا اور ہلکی تلیین، جبکہ ابن بیطار میں تلطیف، پیاس اور غذائی و دوائی استعمال محفوظ ہیں۔ پکی پیاز نسبتاً زیادہ غذائی مگر بعض معدوں کے لیے بھاری ہوسکتی ہے۔ آیوروید میں پلاندو کے گرو و سنیگدھ اوصاف، وات کو کم کرنے اور کف یا پِتّ پر ممکنہ اثرات مقدار و تیاری کے ساتھ دیکھے جاتے ہیں۔ درست استعمال میں اعتدال، مزاج، ہضم اور حفاظت بنیادی ہیں۔

حوالہ جات

  1. ابن سینا۔ القانون فی الطب، کتاب دوم، مفرد بصل۔
  2. محمد بن زکریا الرازی۔ الحاوی فی الطب، اشتہا اور معدہ کے باب میں بصل۔
  3. محمد بن زکریا الرازی۔ الحاوی فی الطب، ملینات میں بصل۔
  4. ابن بیطار۔ الجامع لمفردات الادویہ والاغذیہ، مفرد بصل۔
  5. ابن بیطار۔ الجامع لمفردات الادویہ والاغذیہ، مطبوعہ ریکارڈ۔
  6. حکیم محمد حسن قرشی۔ طبی فارماکوپیا۔
  7. Charaka Samhita. Annapanavidhi Adhyaya، Palandu۔
  8. Bhavamishra. Bhavaprakasha Nighantu، Haritakyadi Varga، Palandu۔
  9. CCRAS. Ayurveda: Palandu (Allium cepa L.) monograph record۔

ادارتی نوٹ: کلاسیکی کتب کے صفحہ نمبر نسخے اور طباعت کے مطابق بدل سکتے ہیں؛ اسی لیے کتاب، متعلقہ مفرد یا باب اور قابلِ رسائی متن کے روابط دیے گئے ہیں۔ قدیم آنکھ، کان اور زخم والے استعمال تاریخی طور پر مذکور ہیں، لیکن انہیں موجودہ گھریلو علاج کے طور پر تجویز نہیں کیا گیا۔

آخری تدوینی و حوالہ جاتی جائزہ: 9 ستمبر 2026

مصنف جی ایم لطیف زادے

مصنف کے بارے میں

جی ایم لطیف زادے، UniTib کے شریک بانی اور مصنف ہیں۔ وہ ہیلتھ سرٹ ایجوکیشن سے قدرتی طب و جڑی بوٹیوں اور کلینیکل غذائیت کی پیشہ ورانہ اسناد رکھتے ہیں، جبکہ شانتی مکان آیورویدک ویلنس سنٹر سے آیورویدک ادویاتی پودوں کی تربیت بھی حاصل کر چکے ہیں۔ ان کی پیشہ ورانہ دلچسپی نیچروپیتھی، جڑی بوٹیوں، غذائیت اور آیورویدک ادویاتی پودوں کے ذمہ دارانہ اور تعلیمی مطالعے پر مرکوز ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post