قانون مفرد اعضاء (Qanoon Mufrid Aza):

🌿 قانون مفرد اعضاء (Qanoon Mufrid Aza): صحت کے بنیادی اصولوں پر تفصیلی نظر

قانون مفرد اعضاء (Simple Organopathic Law) محض ایک طبی نظام نہیں، بلکہ ایک مکمل فلسفہ ہے جو بیماری، صحت، اور کائنات کے باہمی تعلق کو فطری اصولوں کی روشنی میں بیان کرتا ہے۔ یہ نظریہ مجددِ طب حضرت صابر ملتانیؒ کی انتھک محنت کا ثمر ہے، جس نے روایتی حکمت اور جدید سائنس کے درمیان ایک منطقی پل تعمیر کیا۔

مرض کی ابتدا: مفرد اعضاء کا نظریہ

قانون مفرد اعضاء کا سب سے بنیادی اصول یہ ہے کہ مرض کی جڑ ہمیشہ جسم کے تین مفرد اعضاء (Simple Organs) میں ہوتی ہے: عضلات (Muscles)، اعصاب (Nerves)، اور غدد (Glands)۔ بیماری کا آغاز ان اعضاء کے افعال میں توازن کے بگڑنے سے ہوتا ہے، یعنی جب ان میں تحریک (Stimulation)، تسکین (Sedation)، یا تحلیل (Decomposition) کی غیر طبعی کیفیت پیدا ہو جائے۔

اس نظام کے مطابق، اگر کوئی عضو متحرک (Stimulated) ہو جائے تو اس کا فعل بڑھ جاتا ہے (افراط)، اگر مُسکن (Sedated) ہو جائے تو اس کا فعل کم ہو جاتا ہے (تفریط/ضعف)، اور اگر محلل (Decomposed) ہو جائے تو اس کے مادے کا اخراج شروع ہو جاتا ہے۔ علاج صرف ان مفرد اعضاء کے فعل کو اعتدال (Balance) پر لانے سے ممکن ہے، جس کے نتیجے میں خلیہ (Cell) سے لے کر اعضائے رئیسہ (Vital Organs) تک تمام جسمانی افعال درست ہو جاتے ہیں اور تن درستی (Health) قائم ہوتی ہے۔

📜 قانون مفرد اعضاء کا مقصد اور تاریخ

یہ نظریہ ایک چوتھائی صدی سے زیادہ کی تحقیق کے بعد پیش کیا گیا۔ اس کا بنیادی مقصد طب کے قدیم تصورات کو جدید سائنسی فہم کے ساتھ مربوط کرنا تھا۔

  • طبِ قدیم کی تشخیص صرف کیفیات (Qualities)، امزجہ (Temperaments)، اور اخلاط (Humors) تک محدود تھی۔
  • جدید طب نے منافع الاعضاء (Physiology) پر توجہ دی، لیکن کیفیات اور امزجہ کو نظرانداز کیا۔

مجددِ طبؒ نے کیفیات، امزجہ اور اخلاط کو مفرد اعضاء سے تطبیق (Integration) دے کر ثابت کیا کہ کوئی بھی طریقہ علاج جو ان کیفیات کو نظر میں نہ رکھے وہ مکمل نہیں ہے۔ اس تطبیق نے طبِ قدیم کے اصولوں کو سائنسی بنیاد فراہم کی اور تجدید طب کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا، جس سے یہ نظریہ تمام طریقہ ہائے علاج کے لیے ایک معیار (Criterion) بن گیا۔

مفرد اعضاء اور اخلاط کی مماثلت

نظریہ مفرد اعضاء میں جسمانی بنیاد یعنی خلیہ (Cell) کو تسلیم کرتے ہوئے یہ واضح کیا گیا کہ اخلاط اور مفرد اعضاء ایک ہی چیز ہیں یا یوں کہہ لیں کہ مفرد اعضاء دراصل اخلاط کی ٹھوس، مجسم شکل (Materialized Humors) ہیں۔

جدید سائنس نے انسانی جسم کی بنیاد پر چار قسم کے انسجہ (Tissues) یعنی اعصابی (Nervous)، عضلاتی (Muscular)، قشری (Epithelial) اور الحاقی (Connective) تسلیم کیے ہیں۔ مجدد طبؒ نے ان انسجہ کو چاروں اخلاط سے تطبیق دے کر طب کے علم کو آسان کر دیا:

مفرد عضو (Simple Organ) جدید انسجہ (Tissues) مرکز (Vital Organ) ذمہ داری
اعصاب (Nerves) اعصابی انسجہ دماغ (Brain) احساسات (Sensations)
غدد (Glands) قشری/الحاقی انسجہ جگر (Liver) غذا کی ترسیل (Nutrition/Transfers)
عضلات (Muscles) عضلاتی انسجہ قلب (Heart) حرکات (Movements)

یہ تینوں مراکز اعضائے رئیسہ (Life Organs) ہیں جو طبعی افعال سرانجام دیتے ہیں اور ان میں عدم توازن امراض کا باعث بنتا ہے۔

🌊 محرکاتِ زندگی اور فطری اصول (The Driving Forces)

قانون مفرد اعضاء کا تخلیقی اصول فطرت کے اس کلیے پر مبنی ہے: "جوہر سے مادہ پیدا ہوتا ہے" اور "ہر شے اپنی اصل کی طرف لوٹتی ہے" (Kullu Shai’in Yarji’u Ila Aslihi)۔

جسمانی افعال کو کنٹرول کرنے والے تین اعضائے رئیسہ تین فطری اجزاء رطوبت، حرارت، اور ریاح (خشکی) سے متاثر ہوتے ہیں، جو کائنات میں پانی، آگ، اور ہوا کی صورت میں نظر آتے ہیں۔

افعال کی تحریک کا اصول:

  • جسم میں رطوبت (Moisture) کی زیادتی اعصاب کو تیز کرتی ہے۔
  • جسم میں حرارت (Heat) کی زیادتی غدد کو تیز کرتی ہے۔
  • جسم میں ہوا/ریاح (Dryness/Air) کی زیادتی عضلات کو تیز کرتی ہے۔

اس کے برعکس، اعصاب کے تیز ہونے سے رطوبات بڑھتی ہیں، غدد کے تیز ہونے سے حرارت بڑھتی ہے، اور عضلات کے تیز ہونے سے خشونت و ریاح بڑھ جاتے ہیں۔ گویا یہ اعضاء اور کیفیات لازم و ملزوم ہیں۔

🌡️ کیفیات، امزجہ اور موسم کا تعلق

قانون مفرد اعضاء میں کسی بھی شے یا شخص کے مزاج میں دو دو کیفیات پائی جاتی ہیں (جیسے گرم خشک، تر سرد)۔ یہ کیفیات دنیا بھر کی اغذیہ (Foods) اور ادویہ (Medicines) کی پیدائش کا باعث بنتی ہیں، جو ہضم ہو کر خون بناتی ہیں اور انسانی مزاج (Temperament) کو متاثر کرتی ہیں۔

علاج کا فطری درس: مظاہرِ قدرت کا مشاہدہ بتاتا ہے کہ فطرت ایک کیفیت کو فوری نہیں بدلتی۔ اگر گرمی خشکی حد سے تجاوز کر جائے تو اسے بارش کے ذریعے گرمی تری میں بدل دیا جاتا ہے۔ یہی اصول انسانی جسم پر لاگو ہوتا ہے:

اگر جسم کا کوئی مزاج حد سے تجاوز کر جائے، تو علاج کے لیے اس کی ایک کیفیت بدل دی جائے۔ مثال کے طور پر، اگر مزاج گرم خشک ہے تو اسے گرم تَر کر دیا جائے تاکہ توازن قائم ہو جائے۔

یہ قانون اس حقیقت کو بھی واضح کرتا ہے کہ جو لوگ اندرونی طور پر عضلاتی اعصابی (خشک سرد) مزاج رکھتے ہیں، وہ فروری جیسے خشک سرد موسم میں جلد پھٹنے، سانس کی تنگی (ضیق النفس)، اور جوڑوں کے درد جیسی شکایات کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ اس لیے، علاج بیرونی ماحول اور اندرونی مزاج کی کیفیات کو مدنظر رکھ کر کیا جانا چاہیے۔

📝 حوالہ جات (Citations)

  1. صابر ملتانی، دوست محمد۔ (1955ء)۔ کلیات تحقیقات صابر ملتانی (جلد اول و دوم)۔ مرکزی دفتر نظریہ مفرد اعضاء، لاہور۔ (حکیم صابر ملتانی کا بنیادی کام جو نظریے کی وضاحت کرتا ہے)
  2. صابر ملتانی، دوست محمد۔ (مختلف سال)۔ تحقیقات المجربات۔ مرکزی دفتر نظریہ مفرد اعضاء، لاہور۔
  3. دنیا پوری، حکیم محمد شریف۔ (مختلف سال)۔ کلیات نظریہ مفرد اعضاء۔ (حکیم صابر ملتانی کے شاگرد کی طرف سے نظریے کی شرح اور ترویج)
مصنف

مصنف کے بارے میں

محی الدین

فاضل آیویدک اور ماہر خوراک : تجربہ کار اور مستند ماہر صحت کے علاوہ غذائی اصولوں، قدرتی علاج، آیورویدک اور طرزِ زندگی کے ذریعے شفا کے طریقوں پر وسیع تحقیق کی ہے۔ آن لائن پلیٹ فارمز پر صحت و غذائیت، طبِ یونانی، اور جڑی بوٹیوں کی افادیت پر معلوماتی مضامین بھی شائع کرتے ہیں