اجمل دواخانہ کے مربہ جات: آملہ، بہی، ہریڑ، گلقند، سیب، گاجر اور بانس

اہم احتیاط: مربہ بنیادی طور پر پھل، پھول یا نباتی حصے کو شکر کے قوام میں محفوظ کرنے کی روایتی غذائی و صیدلی صورت ہے۔ اسے ذیابیطس، دل، جگر، گردے، قبض، خون کی کمی یا کسی دوسری بیماری کا یقینی علاج نہ سمجھیں۔ ذیابیطس، زائد وزن، دانتوں کے مسائل، گردوی کمزوری، حمل، دودھ پلانے یا مستقل ادویہ کے استعمال میں مقدار مستند معالج کے مشورے سے مقرر کریں۔ پیک پر درج اجزا، مقدار اور تاریخِ تنسیخ کو ہمیشہ ترجیح دیں۔

نمایاں تصویر: اجمل دواخانہ کی سرکاری ویب سائٹ پر موجود مربہ بانس۔

مربہ کیا ہے؟

مربہ ایسی تیاری ہے جس میں پھل، پھول یا کسی مناسب نباتی حصے کو صاف کرکے شکر کے قوام میں محفوظ کیا جاتا ہے۔ طب یونانی میں یہ صرف محفوظ غذا نہیں بلکہ بعض اوقات مفرد دوا کو خوش ذائقہ، نسبتاً قابلِ برداشت اور دیرپا بنانے کی صیدلی تدبیر بھی ہے۔ اصل نبات، اس کی مقدار، پکانے کی مدت اور قوام میں شکر کی نسبت تیار مربے کی کیفیت پر اثر ڈالتی ہے۔

مربے کے افعال کو خام پھل کے افعال کے بالکل برابر نہیں سمجھنا چاہیے۔ حرارت، پانی میں بھگونے، ابالنے اور شکر ملانے سے ذائقہ، ثقل، ہضم اور مزاجی اثر میں تبدیلی آسکتی ہے۔ اسی طرح کسی تیار مربے کے تمام دعووں کو صرف اس کے بنیادی پھل کی کلاسیکی خصوصیات سے ثابت نہیں کیا جاسکتا۔

سرکاری فہرست میں شامل مربہ جات

اجمل دواخانہ کی موجودہ آن لائن Muraba Jaat فہرست میں سات متعلقہ مربہ مصنوعات درج ہیں۔ اسی collection میں Mixed Pickle بھی نظر آتا ہے، لیکن وہ مربہ نہیں، اس لیے مضمون کے سات مربہ جات میں شامل نہیں کیا گیا۔

مصنوعہانگریزی یا نباتاتی شناختسرکاری ابتدائی قیمت
مربہ آملہIndian gooseberry، Phyllanthus emblica500 گرام: 780 روپے
مربہ بہیQuince، Cydonia oblonga500 گرام: 780 روپے
گلقندRose-petal preserve500 گرام: 330 روپے
مربہ ہریڑChebulic myrobalan، Terminalia chebula500 گرام: 1,030 روپے
مربہ سیبApple، Malus domestica500 گرام: 530 روپے
مربہ گاجرCarrot، Daucus carota500 گرام: 500 روپے
مربہ بانسTender bamboo-shoot preserve500 گرام: 1,330 روپے؛ 1 کلو: 2,650 روپے

قیمتوں کا نوٹ: یہ قیمتیں 10 ستمبر 2026 کو سرکاری آن لائن فہرست میں دکھائی گئی قیمتوں پر مبنی ہیں۔ پیک، رعایت، دستیابی اور قیمت تبدیل ہوسکتی ہے، اس لیے خریدنے سے پہلے اصل product page دیکھیں۔

1۔ مربہ آملہ

آملہ برصغیر کی یونانی، آیورویدک اور غذائی روایت میں نمایاں پھل ہے۔ طب یونانی میں اس کی قابض، مقویِ معدہ اور بعض صورتوں میں مفرح و مقوی نسبتیں ملتی ہیں۔ مزاج اور درجے میں کتابی اختلاف پایا جاتا ہے، تاہم ترشی اور قبض کی وجہ سے اسے عموماً سردی اور خشکی کی طرف مائل سمجھا جاتا ہے۔ مربہ بنانے سے ترشی اور قبض کی شدت نرم ہوسکتی ہے، مگر شکر کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔

آیوروید میں آملکی کو معروف رسائن درویہ مانا جاتا ہے اور اسے عمومی پرورش، ہاضمے اور پِتّ کی تیزی کے تناظر میں استعمال کیا جاتا ہے۔ مربہ آملہ کو خام آملہ، آملکی رسائن یا چَیَوَن پراش کے برابر سمجھنا درست نہیں، کیونکہ ہر تیاری کے اجزا اور قوام الگ ہوتے ہیں۔

  • روایتی سمت: معدہ، اشتہا، عمومی نقاہت اور بدن کی پرورش میں غذائی معاون۔
  • استعمال: کم مقدار ناشتے کے ساتھ یا معالج کی ہدایت کے مطابق۔
  • احتیاط: ذیابیطس، تیزابیت، دانتوں کے مسائل اور شکر محدود رکھنے والی غذا میں لیبل دیکھیں۔

مربہ آملہ کی سرکاری تفصیل

2۔ مربہ بہی

بہی یا سفرجل ایک خوشبودار اور قابض پھل ہے۔ یونانی مراجع میں اس کے اثر کو ذائقے اور تیاری کے مطابق سمجھا جاتا ہے: ترش و قابض بہی میں سردی و خشکی نمایاں ہوسکتی ہے، جبکہ میٹھی یا پکی ہوئی تیاری نسبتاً ملائم ہوتی ہے۔ روایتی طور پر اسے معدے کی تقویت، متلی کی کیفیت اور قلبی فرحت کے غذائی تناظر میں بیان کیا گیا ہے۔

شکر کے قوام میں تیار مربہ بہی خام بہی سے زیادہ میٹھا اور نسبتاً بھاری ہوسکتا ہے۔ اسے دل کے دورے، معدے کے السر، ذیابیطس یا حمل کی پیچیدگیوں کا ثابت شدہ علاج کہنا مناسب نہیں۔

  • روایتی سمت: خوشبو، قبض اور ذائقے کی بنا پر مقویِ معدہ اور مفرح غذائی تیاری۔
  • استعمال: تھوڑی مقدار کھانے کے ساتھ؛ اپنی برداشت دیکھی جائے۔
  • احتیاط: شدید قبض، شکر کی پابندی یا مسلسل معدی علامات میں خود علاج نہ کریں۔

مربہ بہی کی سرکاری تفصیل

3۔ مربہ ہریڑ

ہریڑ یا ہلیلج زرد Terminalia chebula کی ایک معروف صورت ہے۔ طب یونانی میں ہلیلجات کو ہضم، معدہ، آنت اور اخراج سے متعلق مرکبات میں رکھا جاتا ہے، مگر قسم، مقدار اور تیاری کے ساتھ فعل بدل سکتا ہے۔ مربہ بنانے سے خشک و قابض خام دوا نسبتاً قابلِ استعمال بن سکتی ہے، لیکن اسے ہر قسم کی قبض یا بواسیر کا لازمی علاج نہیں سمجھنا چاہیے۔

آیوروید میں ہریتکی کو اہم رسائن اور انولومن درویہ سمجھا جاتا ہے۔ وہاں بھی دوش، اگنی، عمر اور انوپان دیکھ کر استعمال کیا جاتا ہے؛ مسلسل دست، کمزوری یا پانی کی کمی میں مسہل مقصد سے لینا مناسب نہیں۔

  • روایتی سمت: ہاضمہ اور آنتوں کی حرکت میں معاون صیدلی غذا۔
  • استعمال: پیک یا معالج کی ہدایت کے مطابق محدود مقدار۔
  • احتیاط: مسلسل دست، پیٹ کا شدید درد، آنت کی رکاوٹ یا پانی کی کمی میں استعمال نہ کریں۔

مربہ ہریڑ کی سرکاری تفصیل

4۔ گلقند

گلقند گلاب کی پتیوں اور شکر سے تیار ہونے والا معروف محفوظ مرکب ہے۔ طب یونانی میں گلاب کو مفرح، قابض اور بعض گرم کیفیات میں مسکن سمجھا جاتا ہے۔ گلقند میں شکر اور تیاری کی وجہ سے خام گلِ سرخ کے مقابلے میں رطوبت، ذائقہ اور غذائیت کا پہلو بڑھ جاتا ہے۔

آیورویدک روایت میں گلقند کو شیتل اور پِتّ کی تیزی، داہ اور گرمی کے موسم میں موافق غذائی تیاری کہا جاتا ہے۔ یہ روایتی استعمال ہیں؛ تیزابیت، دائمی قبض یا پیشابی بیماری کے یقینی علاج کا دعویٰ نہیں۔

  • روایتی سمت: گرمی، خشکی اور طبیعت کی بے فرحتی میں محدود غذائی معاون۔
  • استعمال: ایک چھوٹی مقدار؛ دوسری میٹھی غذاؤں کو مدنظر رکھیں۔
  • احتیاط: ذیابیطس، زائد وزن، دانتوں کی خرابی اور مسلسل اسہال میں خصوصی احتیاط۔

گلقند کی سرکاری تفصیل

5۔ مربہ سیب

سیب کی یونانی نسبت اس کی قسم، مٹھاس اور ترشی کے مطابق بدلتی ہے۔ میٹھا سیب غذائیت، قلبی فرحت اور معدے کی موافقت کے حوالے سے بیان ہوتا ہے، جبکہ ترش و قابض سیب کی کیفیت الگ ہوسکتی ہے۔ مربہ سیب میں شکر کا قوام توانائی بڑھاتا ہے، لیکن اسے خون کی کمی، اعصابی کمزوری یا قلبی بیماری ختم کرنے والی دوا کہنا درست نہیں۔

آیوروید میں سیب کلاسیکی برصغیری بنیادی درویہ نہیں، اس لیے اس پر جدید آیورویدک تشریح کرتے وقت رس، گُن، وِیریہ، پختگی اور ہضم کو دیکھا جاتا ہے۔ پکا ہوا میٹھا سیب خام، ترش سیب سے زیادہ قابلِ برداشت ہوسکتا ہے، مگر مربہ کی شکر الگ عامل ہے۔

  • روایتی سمت: ذائقہ، غذائیت اور قلبی فرحت کی میٹھی محفوظ غذا۔
  • استعمال: ناشتے کے ساتھ چھوٹی مقدار۔
  • احتیاط: اسے آئرن علاج یا دل کی دوا کا بدل نہ بنائیں۔

مربہ سیب کی سرکاری تفصیل

6۔ مربہ گاجر

گاجر ایک غذائی جڑ ہے جسے یونانی روایت میں نسبتاً گرم اور تر یا معتدل کی طرف مائل، مغذی اور مقوی غذا سمجھا جاتا ہے۔ مربہ گاجر میں پکی ہوئی گاجر کے ساتھ شکر شامل ہوتی ہے، اس لیے یہ خام گاجر یا سبزی کی ایک serving کا متبادل نہیں۔

آیورویدک درویہ گُن میں گاجر کو عموماً مدھر، گرو اور پرورش دینے والی غذا کے طور پر سمجھا جاتا ہے؛ تیاری، مصالحہ اور اگنی اس کی موافقت بدل سکتے ہیں۔ مربے کو بینائی بحال کرنے، خون صاف کرنے یا قوتِ باہ بڑھانے کا یقینی علاج قرار دینا مبالغہ ہوگا۔

  • روایتی سمت: موسمِ سرما میں مغذی اور توانائی دینے والی محفوظ غذا۔
  • استعمال: کم مقدار، مجموعی روزانہ شکر کو مدنظر رکھ کر۔
  • احتیاط: ذیابیطس، موٹاپا اور triglycerides زیادہ ہونے میں مقدار محدود رکھیں۔

مربہ گاجر کی سرکاری تفصیل

7۔ مربہ بانس

اجمل دواخانہ کے موجودہ catalogue میں Bamboo Murabba نئی متعلقہ فہرست کے طور پر شامل ہے۔ سرکاری product page اسے نرم bamboo shoots کو شکر کے شیرے میں محفوظ کرکے تیار کردہ روایتی یونانی delicacy کہتا ہے اور 500 گرام و ایک کلو کی صورتیں دکھاتا ہے۔ اس مضمون میں اسی product identity کو بنیاد بنایا گیا ہے۔

یہاں ایک ضروری علمی فرق ہے: مربہ بانس کے نرم shoots کو آیوروید کے ونش لوچن، بنسلوچن یا تباشیر کے برابر نہیں سمجھنا چاہیے۔ ونش لوچن بانس کے اندر بننے والا مخصوص siliceous مادہ ہے، جبکہ اس مربے کا بنیادی جزو نرم bamboo shoot بتایا گیا ہے۔ دونوں کی شناخت، تیاری اور روایتی استعمال الگ ہیں۔

نرم بانس کی کونپل بطور غذا فائبر اور مختلف معدنی اجزا رکھ سکتی ہے، لیکن مربے میں ابالنے، پانی بدلنے اور شکر شامل کرنے سے غذائی profile بدل جاتی ہے۔ ہڈیوں کی مضبوطی، قد میں اضافہ، جگر کی صفائی یا دائمی قبض کے علاج کے بڑے دعووں کے لیے صرف product description کافی ثبوت نہیں۔

  • روایتی سمت: نرم bamboo shoot کی میٹھی محفوظ غذائی تیاری۔
  • استعمال: پہلی مرتبہ بہت کم مقدار سے برداشت دیکھیں اور پیک کی ہدایت کو ترجیح دیں۔
  • احتیاط: صرف معتبر تیار شدہ product استعمال کریں؛ نامعلوم یا خام bamboo shoot خود تیار کرکے نہ کھائیں۔

مربہ بانس کی سرکاری تفصیل

ابن سینا: مفرد غذا، تیاری اور مزاج کا اصول

ابن سینا کی القانون فی الطب میں پھلوں، غذاؤں، ادویہ اور ان کی تیاری کو مزاج، ذائقے، قوتِ ہضم، عضو اور استعمال کرنے والے شخص کے مطابق دیکھا جاتا ہے۔ کسی پھل کو پکانے، بھگونے، شیرے یا شہد کے ساتھ تیار کرنے سے اس کی عملی کیفیت خام صورت جیسی نہیں رہتی۔ یہی اصول مربے کو سمجھنے میں بنیادی ہے: آملہ، بہی، سیب یا ہریڑ کی مفرد کتابی نسبت تیار تجارتی مربے کے ہر دعوے کو خودکار طور پر ثابت نہیں کرتی۔

ابن سینا کی غذائی تدبیر فرد کی قوتِ ہاضمہ، عمر، موسم، مقدار اور موجودہ کیفیت پر زور دیتی ہے۔ اس لیے “سرد” یا “گرم” کا ایک لفظ کافی prescription نہیں۔ شکر کا قوام کمزور شخص کے لیے غذائیت کا ذریعہ ہوسکتا ہے، لیکن حرارت، پیاس، ثقل، موٹاپا یا شکر کی خرابی میں وہی قوام ناموافق بھی ہوسکتا ہے۔

محمد بن زکریا رازی: منافع کے ساتھ دفعِ مضرت

رازی کی منافع الاغذیہ و دفع مضارها کی نمایاں علمی جہت یہ ہے کہ غذا کا فائدہ بیان کرنے کے ساتھ اس کی ممکنہ مضرت اور اصلاح بھی دیکھی جائے۔ پھل کی مٹھاس، ترشی، قبض، نفخ، ثقل اور مقدار مختلف مزاجوں پر ایک جیسے اثرات نہیں ڈالتے۔ مربہ کے بارے میں یہی متوازن زاویہ زیادہ مفید ہے: خوش ذائقہ اور محفوظ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے بلا مقدار روزانہ دوا سمجھ لیا جائے۔

رازی کے اصول کی روشنی میں کسی مربے کا انتخاب علامت کے نام سے نہیں بلکہ ہضم، اخراج، پیاس، حرارت، کمزوری اور مجموعی غذا دیکھ کر ہونا چاہیے۔ اگر شکر سے نقصان کا امکان زیادہ ہو تو بنیادی پھل کی روایتی خوبی مربے کی اضافی شکر کی مضرت ختم نہیں کرتی۔

ابن بیطار: مفردات کی درست شناخت اور نسبت

ابن بیطار کی الجامع لمفردات الادویہ والاغذیہ مفرد نباتات کی شناخت، ناموں، مستعمل حصوں اور سابق اطباء کی نسبت محفوظ کرنے کے لیے بنیادی ماخذ ہے۔ آملج، ہلیلج، سفرجل، تفاح، ورد اور جزر جیسے اجزا کو سمجھتے وقت یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کتاب میں پھل، بیج، چھال، پھول یا کسی اور حصے کا ذکر ہے۔

اس اصول کا خاص اطلاق مربہ بانس پر ہوتا ہے۔ “بانس” کا مشترک نام دیکھ کر نرم bamboo shoot کو بنسلوچن یا تباشیر نہیں بنایا جاسکتا۔ اسی طرح گلِ سرخ کی مفرد خصوصیات کو شکر والے گلقند، اور ہلیلج کی خام خصوصیات کو مربہ ہریڑ پر بلا فرق منطبق کرنا درست علمی طریقہ نہیں۔

حکیم محمد حسن قرشی: قرابادین، قوام اور تیار دوا

حکیم محمد حسن قرشی کی طبی فارماکوپیا برصغیر کی مفرد و مرکب دوا سازی، مجربات اور صیدلی ترتیب کی اہم کتاب ہے۔ اس روایت میں کسی تیار نسخے کا نام کافی نہیں؛ درست شناخت، صاف شدہ مقدار، قوام، طریقۂ تیاری، خوراک اور حفاظت بھی معنی رکھتے ہیں۔ مربہ اسی صیدلی منطق کی ایک صورت ہے جس میں بنیادی مادہ اور شکر کا قوام دونوں تیار product کی کیفیت بناتے ہیں۔

قرشی کی علمی روایت ہمیں یہ احتیاط بھی سکھاتی ہے کہ پورے مرکب کا فعل کسی ایک جز کو نہ دیا جائے اور بازار کے product کو کلاسیکی نسخہ اسی وقت کہا جائے جب اجزا اور تیاری کی مطابقت معلوم ہو۔ اس مضمون میں اجمل کی موجودہ product list کو تجارتی شناخت کے لیے اور کلاسیکی کتابوں کو عمومی اصول و مفردات کے لیے الگ الگ استعمال کیا گیا ہے۔

طب یونانی اور آیوروید میں مربہ کو کیسے سمجھیں؟

پہلوطب یونانیآیوروید
بنیادی جائزہمزاج، افعال، عضو، قوتِ ہضم، مقدار اور مصلحرس، گُن، وِیریہ، وِپاک، دوش، اگنی اور انوپان
تیاری کا اثرطبخ اور قوام مفرد کی شدت، ہضم اور بقا بدل سکتے ہیںسنسکار اور سہ پان تیاری کی عملی کیفیت بدل سکتے ہیں
شکرمغذی و حافظِ قوام، مگر ثقیل یا مضر بھی ہوسکتی ہےمدھر و پرورش بخش، مگر کف، ثقل اور مید بڑھا سکتی ہے
درست استعمالفرد، مقدار اور علت کے مطابقپرکرتی، وِکرتی، اگنی، موسم اور مقدار کے مطابق

خریدتے اور استعمال کرتے وقت کیا دیکھیں؟

  • product label پر بنیادی نبات، دوسرے اجزا، وزن، batch اور expiry دیکھیں۔
  • ڈھکن پھولا ہوا، seal ٹوٹی ہوئی، بدبو، پھپھوندی یا غیر معمولی fermentation ہو تو استعمال نہ کریں۔
  • “قد بڑھانے”، “ہر بیماری ختم کرنے”، “خون مکمل صاف کرنے” یا prescribed دوا چھوڑنے والے دعووں سے محتاط رہیں۔
  • ایک یا دو چمچ کو معمولی نہ سمجھیں؛ مربہ کی شکر روزانہ کے مجموعی carbohydrate میں شامل ہوتی ہے۔
  • بچوں کو دیتے وقت گھٹن، مقدار، الرجی اور شکر کا خیال رکھا جائے۔
  • ذیابیطس یا دوسری دائمی بیماری میں glucose reading اور prescribed treatment کو نظر انداز نہ کریں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اجمل دواخانہ کی فہرست میں کتنے مربہ جات ہیں؟

10 ستمبر 2026 کے جائزے میں چھ پرانی مصنوعات کے ساتھ مربہ بانس شامل کرکے سات مربہ مصنوعات ملتی ہیں۔ collection میں Mixed Pickle بھی ہے، مگر وہ مربہ نہیں۔

کیا مربہ روزانہ نہار منہ لینا ضروری ہے؟

نہیں۔ مناسب وقت اور مقدار بنیادی جز، شکر، مقصد، مزاج، ہضم اور صحت کی کیفیت کے مطابق بدلتی ہے۔ ہر مربے کے لیے ایک ہی نہار منہ ہدایت درست نہیں۔

کیا ذیابیطس میں مربہ استعمال ہوسکتا ہے؟

عام مربہ شکر کے قوام میں تیار ہوتا ہے۔ ذیابیطس میں خود سے روزانہ استعمال شروع نہ کریں؛ label، serving size، مجموعی carbohydrate اور معالج کی ہدایت دیکھیں۔

کیا مربہ بانس اور بنسلوچن ایک چیز ہیں؟

نہیں۔ سرکاری product page مربہ بانس کو tender bamboo shoots کی تیاری بتاتا ہے، جبکہ بنسلوچن یا تباشیر بانس کے اندر بننے والا الگ siliceous مادہ ہے۔

کیا مربہ ہریڑ ہر قبض میں مفید ہے؟

نہیں۔ قبض کی وجہ، مدت اور علامات اہم ہیں۔ شدید درد، قے، خون، پیٹ پھولنے یا اخراج بند ہونے میں فوری طبی جانچ ضروری ہے۔

کیا درج قیمتیں مستقل ہیں؟

نہیں۔ یہ 10 ستمبر 2026 کو سرکاری online store پر دکھائی گئی قیمتیں ہیں اور تبدیل ہوسکتی ہیں۔

خلاصہ

اجمل دواخانہ کی موجودہ فہرست میں مربہ آملہ، بہی، ہریڑ، گلقند، سیب، گاجر اور بانس شامل ہیں۔ مربہ ایک میٹھی محفوظ غذائی و صیدلی صورت ہے؛ خام نبات اور تیار مربے کے اثرات کو یکساں نہیں سمجھنا چاہیے۔ ابن سینا مقدار، مزاج اور تیاری؛ رازی فائدے کے ساتھ دفعِ مضرت؛ ابن بیطار درست نباتی شناخت؛ اور حکیم محمد حسن قرشی قوام، نسخہ اور صیدلی معیار کی اہمیت واضح کرتے ہیں۔ آیوروید میں بھی درویہ، سنسکار، دوش اور اگنی کے مطابق انفرادی استعمال بنیادی اصول ہے۔

حوالہ جات

  1. Ajmal Dawakhana: Muraba Jaat official collection۔
  2. Ajmal Dawakhana: Bamboo Murabba official product page۔
  3. ابن سینا۔ القانون فی الطب؛ اغذیہ، مفردات اور تدبیرِ استعمال کے ابواب۔
  4. محمد بن زکریا الرازی۔ منافع الاغذیہ و دفع مضارها۔
  5. ابن بیطار۔ الجامع لمفردات الادویہ والاغذیہ۔
  6. حکیم محمد حسن قرشی۔ طبی فارماکوپیا، جلد اول۔
  7. Government of India, Ministry of AYUSH. Ayurvedic pharmacopoeial and medicinal-plant resources۔

ادارتی نوٹ: اجمل دواخانہ کے product pages مصنوعات، وزن اور قیمت کی شناخت کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔ کلاسیکی مراجع عمومی یونانی و آیورویدک اصول اور مفرد اجزا کی تاریخی نسبت کے لیے ہیں؛ کسی کلاسیکی مصنف کی طرف جدید brand یا غیر مصدقہ علاجی دعویٰ منسوب نہیں کیا گیا۔

مصنف جی ایم لطیف زادے

مصنف کے بارے میں

جی ایم لطیف زادے، UniTib کے شریک بانی اور مصنف ہیں۔ وہ ہیلتھ سرٹ ایجوکیشن سے قدرتی طب و جڑی بوٹیوں اور کلینیکل غذائیت کی پیشہ ورانہ اسناد رکھتے ہیں، جبکہ شانتی مکان آیورویدک ویلنس سنٹر سے آیورویدک ادویاتی پودوں کی تربیت بھی حاصل کر چکے ہیں۔ ان کی پیشہ ورانہ دلچسپی نیچروپیتھی، جڑی بوٹیوں، غذائیت اور آیورویدک ادویاتی پودوں کے ذمہ دارانہ اور تعلیمی مطالعے پر مرکوز ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post