ملیٹھی (اصل السوس): یونانی و آیورویدک مزاج، اقوالِ اطباء، معدے کا السر اور طریقہ استعمال

طبی و روایتی احتیاطی وضاحت (Health & Traditional Disclaimer)

یہ مضمون طبِ یونانی اور آیوروید کے روایتی اصولوں، کلاسیکی متون اور مستند اطباء کے تجربات کی روشنی میں محض تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے تحریر کیا گیا ہے۔ اگرچہ ملیٹھی (اصل السوس) ایک کثیر الفوائد اور اعتدال پسند نباتاتی دوا ہے، لیکن اس کا طویل مدت تک بغیر وقفے کے یا کثرت سے مسلسل استعمال جسم میں سوڈیم اور رطوبات کو روک کر بلڈ پریشر میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر، ورمِ گردہ (Nephritis)، اور حاملہ خواتین اسے معالج کے مشورے کے بغیر استعمال نہ کریں۔ کسی بھی باقاعدہ علاج کے لیے ہمیشہ اپنے مستند و باضابطہ رجسٹرڈ طبیب سے رجوع فرمائیں۔

ملیٹھی کی جڑیں، پودا اور روایتی یونانی و آیورویدک کھرل — اصل السوس (Glycyrrhiza glabra)

ملیٹھی (اصل السوس) کا تعارف اور تاریخی پس منظر

ملیٹھی دنیا کے تمام روایتی طبی نظاموں بالخصوص طبِ یونانی اور آیوروید کی ان چند نادر اور مقدّس جڑی بوٹیوں میں شمار ہوتی ہے جنہیں قدیم اطباء نے "اکسیرِ حلق و امعاء" اور "شیریں شفا" کا لقب دیا ہے۔ عربی کتبِ طب میں اسے أصل السوس (یعنی سوس کے پودے کی جڑ) اور اس کے جما لیے گئے نچوڑ کو ربّ السوس (Rob-e-Soos) کہا جاتا ہے۔ برصغیر کی اردو و ہندی زبان میں اسے ملیٹھی، اور سنسکرت و آیوروید میں یشٹی مدھو (Yashtimadhu) یا مدھو یشٹیکا (جس کے معنی 'شہد جیسی شیریں لکڑی' ہیں) کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

نباتاتی دنیا میں یہ پودا خاندانِ باقلیہ (Fabaceae / Leguminosae) کا ایک پروقار رکن ہے جس کا بین الاقوامی سائنسی نام Glycyrrhiza glabra ہے۔ لفظ گلائسی رائزا یونانی زبان کے دو الفاظ Glykys (شیریں) اور Rhiza (جڑ) کا مرکب ہے، جو اس کی فطری مٹھاس کا غماز ہے۔

تاریخی حوالوں سے ثابت ہے کہ شاہانِ مصر، قدیم یونانی اطباء (بقراط و دیسقوریدوس)، اور بعد ازاں اسلامی عہد کے عظیم اطباء نے فوجیوں کو صحرائی مہمات کے دوران پیاس کی شدت بجھانے، گلے کی خراش دور کرنے اور معدے کے شدید زخموں کو بھرنے کے لیے اصل السوس کا استعمال کرایا۔ بو علی سینا اور امام رازی نے سانس کی نالیوں، پھیپھڑوں اور مثانے کے السر کے علاج میں اسے ادویہ کا سردار قرار دیا ہے۔

مختصر سوانحی و مفرداتی خاکہ

معروف نام ملیٹھی، اصل السوس، ربّ السوس
عربی نام أَصْلُ السُّوس (عرق السوس)
آیورویدک نام یشٹی مدھو، مدھو یشٹیکا (Yashtimadhu / Madhuyashtika)
نباتاتی ماخذ Glycyrrhiza glabra (خاندان: Fabaceae)
یونانی مزاج معتدل در حرارت و برودت، اور تر درجہ اول (بعض کے نزدیک گرم خشک درجہ اول)
آیورویدک گُن (Properties) گرو (Guru - بھاری)، سنگدھا (Snigdha - روغنی/مرطوب و ملائم)
آیورویدک رس و ویریا رس: مدھورا (Madhura - شیریں) | ویریا: شیتا (Sheeta - خنک/ٹھنڈی تاثیر)
دوشا اثر (Tridosha) وات (Vata) اور پِت (Pitta) دوشا کو جڑ سے پرسکون کرتی ہے (شامک)
طبی نفعِ خاص ملیّن و منقّی قصبۃ الریہ، التیامِ قروح (زخم بھرنا)، مقوی بصر و صوت (آواز)
مصلح (Corrective) کتیرا، گلاب کے پھول، یا عناب
مقدارِ خوراک سفوف جڑ: 3 تا 5 گرام | ربّ السوس: 1 تا 2 گرام | جوشاندہ: 5 تا 7 گرام

پودے کی پیداوار، کاشت اور حصصِ مستعملہ

ملیٹھی ایک کثیر سالہ خود رو اور کاشت شدہ بوٹی ہے جس کا پودا عموماً تین سے چار فٹ اونچا ہوتا ہے۔ اس کے پتے املی کے پتوں کی مانند جوڑے دار اور خوشنما ہوتے ہیں، جبکہ اس پر نیلگوں اور ہلکے بنفشی رنگ کے خوشبودار پھول لگتے ہیں۔ پودے کا سب سے اہم طبی حصہ اس کی زیرِ زمین دوڑنے والی جڑیں اور شاخیں (Rhizomes & Roots) ہیں۔

  • کاشت کا خطہ اور پیداوار: ملیٹھی کی اصل پیداواری سرزمین بحرِ روم کے ساحلی ممالک (ترکی، یونان، شام، مصر)، عراق، ایران، افغانستان، اور پاکستان میں بلوچستان کے پہاڑی دامن (زیارت، پشین، کوئٹہ) ہیں۔ پودے کی عمر جب تین سے چار سال ہو جاتی ہے تو موسمِ خزاں میں اس کی جڑیں کھود کر نکالی جاتی ہیں، انہیں دھو کر دھوپ میں خشک کیا جاتا ہے۔
  • حصصِ مستعملہ (Parts Used):
    1. اصل السوس مقشر (Chipped / Peeled Root): جڑ کی بیرونی بھوری چھال کو چھیل کر اندر سے زرد رنگ کی لکڑی نکالی جاتی ہے۔ اطباء کے نزدیک مقشر (چھلی ہوئی) جڑ ادویہ میں استعمال کے لیے سب سے اعلیٰ اور بے عیب سمجھی جاتی ہے۔
    2. ربّ السوس (Extractum Glycyrrhizae): جڑوں کو کوٹ کر پانی میں پکا کر جب گاڑھا کر کے جمایا جاتا ہے تو سیاہ رنگ کا ٹھوس جوہر تیار ہوتا ہے جسے روایتی زبان میں "ربّ السوس" یا "ستِ ملیٹھی" کہا جاتا ہے۔ یہ گلے اور کھانسی کی گولیوں کا بنیادی ستون ہے۔

اطبائے سلف اور کلاسیکی ائمہ کے اصل حوالہ جات و اقوال

ملیٹھی کی طبی افادیت پر دنیائے طب کے چار عظیم ستونوں نے اپنی مایہ ناز تصانیف میں جو گرانقدر ارشادات قلمبند کیے ہیں، وہ طب کی تاریخ کا روشن باب ہیں:

۱. امام محمد بن زکریا رازیؒ (کتاب الحاوی فی الطب):

"اصل السوس نافع جداً لأوجاع الرئة وقصبة الرئة، ويجلو الصوت، ويبرىء قروح المثانة، ويسكن العطش، وله غوص في قعر القروح فينقيها ويدملها."

ترجمہ و تشریح: امام رازی فرماتے ہیں کہ اصل السوس پھیپھڑوں اور سانس کی نالی کے تمام دردوں کے لیے بے حد مفید ہے، یہ آواز کے کھردرے پن کو نکھارتا ہے، مثانے کے زخموں کو مندمل کرتا ہے، پیاس کو بجھاتا ہے، اور اس میں یہ کمال ہے کہ یہ زخموں کی گہرائی میں اتر کر ان کی صفائی کرتا ہے اور انہیں باہم جوڑ کر بھر دیتا ہے۔

۲. شیخ الرئیس بو علی سیناؒ (القانون فی الطب — کتاب الادویۃ المفردۃ):

"عرق السوس ملين لقصبة الرئة، منقّ لها، موافق لخشونة الحلق والصوت، ونافع لأوجاع الصدر والرئة، ومسكن للعطش الكائن عن حرارة المعدة، وينفع من قروح الكلى والمثانة."

ترجمہ و تشریح: شیخ الرئیس نے القانون میں واضح کیا کہ اصل السوس سانس کی نالیوں کو نرم کرنے والی، ان سے منجمد مواد کو صاف کرنے والی، گلے اور آواز کے کھردرے پن کو موافق آنے والی دوا ہے۔ یہ سینے اور پھیپھڑوں کے اوجاع کو نفع دیتی ہے، معدے کی سوزش و حرارت سے لگنے والی پیاس کو تسکین دیتی ہے، اور گردے و مثانے کے زخموں کو مٹاتی ہے۔

۳. حکیم محمد کبیر الدینؒ (مخزن المفردات):

"اصل السوس کی سب سے بڑی صفت اس کا اعتدالِ مزاج اور التیامِ قروح ہے۔ یہ نہ صرف غلیظ رطوبات کو پکا کر نکالتی ہے بلکہ امعاء (آنتوں) اور معدے کے چھلے ہوئے مادوں پر محافظ جھلی چڑھا دیتی ہے۔ جب کسی مرکب میں سخت مسہل ادویات کی تیزی کو اعتدال پر لانا مقصود ہو تو اطباء اصل السوس کو بطورِ مصلح شامل فرماتے ہیں۔"

۴. مہارشی چرک (چرک سمہتا — سوتراستھان):

"یشٹی مدھو کانٹھیا (حلق و صوت کو شفا دینے والی)، جیونیہ (جسم کو حیات و تازگی بخشنے والی)، اور وریہ (جلد کے رنگ اور حسن کو نکھارنے والی) نباتات کی صفِ اول میں معتبر ہے۔"

یونانی نقطۂ نظر: مزاج، افعال اور خواص

طبِ یونانی کے ائمہ کے نزدیک اصل السوس کا مزاج حرارت اور برودت میں معتدل ہے، جبکہ رطوبت میں درجہ اول تر ہے (بعض محققین نے اسے درجہ اول گرم و خشک قرار دیا ہے، مگر اس کا اعتدال پر ہونا ہی سب سے زیادہ معتبر قول ہے)۔

بنیادی یونانی افعال:

  • مُنَفِّث و مُنَقِّیِ بَلغَم (Expectorant): پھیپھڑوں اور سانس کی نالیوں میں جمی ہوئی لیس دار اور گاڑھی بلغم کو پتلا کر کے آسانی سے خارج کرتی ہے۔
  • مُدَمِّل و مُلْتَئِمِ قُرُوح (Vulnerary & Ulcer Healing): معدے اور چھوٹی آنت کے زخموں (Peptic & Duodenal Ulcers) کو مندمل کرتی ہے اور تیزابی رطوبات کے نقصانات کو روکتی ہے۔
  • مُصَفِّیِ صَوت (Voice Clarifier): گویوں، اساتذہ، خطباء اور قراء کے لیے آواز کے بیٹھ جانے اور گلے کے سوکھنے کا مجرب ترین روایتی علاج ہے۔
  • مُسَکِّنِ عَطَش و حُرقت (Quenching Thirst & Relieving Burning): اندرونی پیاس، پیشاب کی نالی کی جلن اور سینے کی آگ کو بجھاتی ہے۔
  • مُلَیِّنِ طَبْع (Mild Demulcent Laxative): انتڑیوں کی دیواروں کو خشکی سے بچا کر اجابت کو نرم کرتی ہے۔

آیورویدک نقطۂ نظر: رس، ویریا، وپاک اور تر دوش پر اثرات

آیوروید میں یشٹی مدھو (ملیٹھی) کو "رسائن" یعنی بڑھاپے اور کمزوری کو روکنے والی دوا مانا جاتا ہے۔ اس کے بنیادی اوصاف درج ذیل ہیں:

  • رس (Taste): مدھورا (Madhura - خالص شیریں اور تسکین بخش ذائقہ)۔
  • گُن (Qualities): گرو (Guru - ہضم میں قدرے بھاری اور پرورشی) اور سنگدھا (Snigdha - لعاب دار، مرطوب اور چکنا)۔
  • ویریا (Potency): شیتا (Sheeta - باطنی خنکی پیدا کرنے والی تاثیر)۔
  • وپاک (Post-digestive effect): مدھورا (ہضم کے بعد بھی اس کا اثر میٹھا رہتا ہے اور جسم کو لحمیاتی قوت دیتا ہے)۔

تری دوشا محاکمہ (Tridosha Action):

یشٹی مدھو اپنی شیرینی اور چکنائی کی وجہ سے وات دوشا (خشکی، اعصابی اینٹھن، گیس) کو فوری قابو کرتی ہے، اور اپنی ٹھنڈی ویریا کی بدولت پِت دوشا (تیزابیت، بخار، جگر کی تپش اور خون کی سوزش) کو پرسکون کرتی ہے۔ تاہم اس کی رطوبت اور گرو خاصیت کے سبب کَف دوشا (سردی اور ریشہ) کے مریضوں کو اسے خشک ادرک (سونٹھ) یا کالی مرچ کے ساتھ استعمال کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔

قانونِ مفرد اعضاء (طبِ صابر) کے تحت محاکمہ

حکیم انقلاب دوست محمد صابر ملتانیؒ کے وضع کردہ قانونِ مفرد اعضاء کے مطابق ملیٹھی کا مقام غدی اعصابی (گرم تر) ہے۔

یہ جسم میں حرارت اور رطوبت کو اعتدال کے ساتھ پیدا کرتی ہے، جگر کو متحرک کرتی ہے اور غدد کے ترشحات کو بڑھا کر عضلاتی خشکی اور اینٹھن کو تحلیل کرتی ہے۔ جب معدے میں عضلاتی غدی یا غدی عضلاتی تحریک کی وجہ سے شدید جلن، تیزابیت اور معدے کی جھلی پر کٹاؤ (السر) پیدا ہو جائے، تو ملیٹھی غدی اعصابی اثرات کے تحت اس زخم کو چند دنوں میں مندمل کر کے درد اور سوزش کا خاتمہ کر دیتی ہے۔

روایتی و مجرب طریقہ ہائے استعمال (Classical Formulations)

اطبائے کرام اور محققینِ حکمت ملیٹھی کو مختلف امراض میں درج ذیل صورتوں میں استعمال کراتے ہیں:

1. گلے کی سوزش، کھانسی اور آواز بیٹھنے کے لیے (Lozenges):

ملیٹھی مقشر (چھلی ہوئی) کا چھوٹا سا ٹکڑا منہ میں رکھ کر چوسنا گلے کے کھردرے پن، شدید خشک کھانسی اور آواز کے بند ہونے کو گھنٹوں میں ٹھیک کرتا ہے۔

2. معدے کے السر اور تیزابیت کا کلاسیکی نسخہ (Gastric Ulcer):

سفوف ملیٹھی مقشر، گوند کتیرا، اور مغزِ سونف ہموزن ملا کر باریک سفوف بنا لیں۔ آدھا چمچ صبح نہار منہ اور شام کو تازہ پانی کے ساتھ استعمال کرنا معدے کے چھالوں، جلن اور پرانی تیزابیت کو جڑ سے ختم کرتا ہے۔

3. پیاس کی شدت اور پیشاب کی جلن کے لیے:

پانچ گرام ملیٹھی کو رات کو ایک گلاس پانی میں بھگو دیں، صبح مل چھان کر مصری ملا کر پینا اندرونی پیاس، لو اور پیشاب کی نالی کے زخموں کو تسکین دیتا ہے۔

4. قرابادینی کتب کے مشہور مرکبات:

  • لعوقِ سپستان و لعوقِ خیارشنبر: سینے اور پھیپھڑوں کی بلغم اور دمہ کی کلاسیکی معجونیں۔
  • شربتِ اعجاز: دق و سل (T.B) اور سینے کے پرانے زخموں کو بھرنے والا مشہور یونانی شربت جس کا اصل جزو اصل السوس ہے۔
  • حبِ سُعال: کھانسی اور نزلے کی روایتی گولیاں۔

اہم روایتی انتباہ اور احتیاطیں (Traditional Contraindications)

اگرچہ ملیٹھی ایک معتدل اور نہایت مفید دوا ہے، تاہم روایتی اطباء نے اس کے استعمال کے ضوابط بیان کیے ہیں:

  • ہائی بلڈ پریشر کے مریض: ملیٹھی میں موجود قدرتی جوہر (گلائسی رائزن) جسم میں نمکیات اور پانی کو روکنے کا میلان رکھتا ہے، اس لیے جن افراد کا بلڈ پریشر بلند رہتا ہو وہ اسے روزانہ زیادہ مقدار میں متواتر استعمال نہ کریں۔
  • گردوں کا ورم (Kidney Edema): جن مریضوں کے جسم پر ورم یا پانی جمع ہو، وہ اس سے اجتناب کریں۔
  • طویل المدت استعمال: ملیٹھی کو مسلسل چار سے چھ ہفتوں سے زیادہ بلا ناغہ استعمال نہیں کرنا چاہیے، بلکہ درمیان میں چند دنوں کا وقفہ دینا ضروری ہے۔
  • مصلح (Antidote): ملیٹھی کے مضر اثر کا مصلح کتیرا، گلاب کے پھول، اور شربتِ عناب ہے۔

کلاسیکی حوالہ جات و کتبِ طب

  1. الرازی، امام محمد بن زکریا۔ کتاب الحاوی فی الطب — جلد بستم، باب الادویۃ المفردۃ (اصل السوس و منافعہ فی الصدر و الرئۃ)۔
  2. ابن سینا، شیخ الرئیس۔ القانون فی الطب — کتاب الادویۃ المفردۃ، حرف العین (عرق السوس و اصل السوس)۔
  3. کبیر الدین، حکیم محمد۔ مخزن المفردات (کتاب الادویہ مع سائنسی تحقیق) — مفصل تحقیق اصل السوس و ربّ السوس۔
  4. نجم الغنی، حکیم مولوی محمد۔ خزائن الادویہ — جلد اول، اصل السوس کے افعال، خواص، منافع و مصلحات۔
  5. صابر ملتانی، حکیم دوست محمد۔ تحقیقات الادویہ غدی اعصابی — قانونِ مفرد اعضاء میں سوزش و قروحِ معدہ کا علاج۔
  6. آچاریہ چرک۔ چرک سمہتا (Charaka Samhita) — سوتراستھان، یشٹی مدھو کے کانٹھیا اور رسائن اوصاف۔

آخری نظرثانی: 5 اکتوبر 2026۔ یہ مضمون روایتی طبی ورثے کی تاریخی و علمی وضاحت پر مبنی ہے اور ذاتی معالجاتی نسخے کا متبادل نہیں ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post