حکیم محمد اقبال مروٹی | قانونِ مفرد اعضاء کے معالج و مدرس

اہم وضاحت: یہ صفحہ حکیم محمد اقبال مروٹی مرحوم کی زندگی، طبی خدمات اور علمی ورثے کا سوانحی و تعلیمی تعارف ہے۔ یہاں مذکور علاجی موضوعات ان کے مکتبِ فکر اور مطبی تجربے کی نمائندگی کرتے ہیں؛ انہیں ذاتی تشخیص یا ہنگامی طبی مشورے کا بدل نہ سمجھا جائے۔ سنگین، مسلسل یا اچانک علامات میں مستند معالج سے براہِ راست رجوع کریں۔
حکیم محمد اقبال مروٹی قانون مفرد اعضاء کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے
حکیم محمد اقبال مروٹی—قانونِ مفرد اعضاء کے معالج، مدرس اور مقبول طبی رہنما۔

حکیم محمد اقبال مروٹی: تعارف

حکیم محمد اقبال مروٹی مرحوم پاکستان کے ان تجربہ کار اطباء میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے قانونِ مفرد اعضاء اور طبِ صابر کی عملی تعلیم کو عام فہم گفتگو کے ذریعے وسیع حلقے تک پہنچایا۔ ان کی شناخت ایک مقامی مطب کے معالج تک محدود نہیں رہی؛ مختصر مگر مسلسل ویڈیو دروس نے ان کی بات کو مروٹ اور بہاولنگر سے نکال کر پاکستان اور بیرونِ ملک اردو سمجھنے والے ناظرین تک پہنچا دیا۔ ان کی گفتگو میں مطبی مشاہدہ، غذا و تدبیر، علامات کی درجہ بندی اور اپنے مکتبِ علاج کے اصول ساتھ ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔

آن لائن محفوظ مواد میں ان کا نام عموماً حکیم محمد اقبال، حکیم اقبال مروٹی یا Hakeem Muhammad Iqbal Maroti کے طور پر آتا ہے۔ “مروٹی” کی نسبت ان کے علاقے مروٹ سے ہے، جو تحصیل فورٹ عباس، ضلع بہاولنگر میں واقع ہے۔ دستیاب عوامی تعارف ان کی پیشہ ورانہ سرگرمی کو چک 319/HR، مروٹ کے علاقے سے بھی جوڑتا ہے۔

مروٹ اور بہاولنگر سے وابستگی

حکیم محمد اقبال کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے ان کے جغرافیائی پس منظر کی اہمیت ہے۔ انہوں نے ایک ایسے علاقے میں طب کی خدمت کی جہاں مقامی معالج مریض کی روزمرہ غذا، رہن سہن، موسم اور دستیاب وسائل کو قریب سے جانتا ہے۔ ان کی گفتگو اسی عملی ماحول کی عکاس ہے: زبان سادہ، مسئلہ واضح اور بیان براہِ راست ہوتا تھا۔ پیچیدہ اصطلاح سامنے آتی تو وہ اسے روزمرہ مثال کے ذریعے کھولنے کی کوشش کرتے تھے۔

ان سے منسوب مطبی مرکز کا نام اقبال دواخانہ بھی ملتا ہے۔ بعد میں ان کے ساتھ کام کرنے والے حکیم سید عبدالوہاب شاہ شیرازی نے اپنے پیشہ ورانہ تعارف میں 2019ء سے 2020ء کے دوران اقبال دواخانہ میں حکیم محمد اقبال کے شاگرد اور معاون کی حیثیت سے رہنے کا ذکر کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مطب علاج کے ساتھ عملی تربیت اور شاگردی کی جگہ بھی تھا۔

قانونِ مفرد اعضاء سے تعلق

حکیم محمد اقبال کا بنیادی علمی و عملی میدان قانونِ مفرد اعضاء تھا، جسے بعض ذرائع میں طبِ صابر بھی کہا گیا ہے۔ اس مکتب میں جسمانی افعال اور علامات کو مخصوص اعضائی و مزاجی ترتیب میں سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے، پھر غذا، تدابیر اور ادویہ کو اسی فہم کے مطابق منتخب کیا جاتا ہے۔ ان کی ویڈیوز میں یہی فکری ترتیب بار بار سامنے آتی ہے۔

وہ کسی موضوع کو صرف نسخے کے عنوان سے پیش کرنے کے بجائے عموماً علامت، ممکنہ سبب، متعلقہ جسمانی کیفیت، مناسب غذا اور قابلِ عمل تدبیر کے ربط سے سمجھاتے تھے۔ یہی انداز ان کی تدریس کو اپنے مکتبِ فکر کے طلبہ اور عام سامع دونوں کے لیے قابلِ فہم بناتا تھا۔ ان کے بیانات کو ان کے طبی نظام، ذاتی مطبی تجربے اور تدریسی روایت کے تناظر میں پڑھنا مناسب ہے۔

2019ء کا انٹرویو اور ویڈیو تدریس کا آغاز

6 فروری 2019ء کو الہدیٰ گائیڈنس پر شائع ہونے والا ان کا تعارفی انٹرویو دستیاب ڈیجیٹل ریکارڈ میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ ویڈیو کی تفصیل میں انہیں قانونِ مفرد اعضاء کا ماہر قرار دیتے ہوئے مختلف بیماریوں اور سادہ تدابیر پر ایک باقاعدہ سلسلہ شروع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ ابتدائی منصوبہ بیس سے تیس ویڈیوز کا تھا، لیکن ناظرین کی دلچسپی اور موضوعات کی وسعت نے اس کام کو کہیں آگے بڑھا دیا۔

اس سلسلے کی ایک نمایاں خصوصیت ناظرین سے رابطہ تھا۔ تعارفی ویڈیو کے ساتھ لوگوں کو اپنے مطلوبہ مرض یا موضوع کی نشان دہی کرنے کی دعوت دی گئی۔ یوں متعدد دروس عوامی سوالات اور عملی ضرورتوں کے گرد تشکیل پاتے گئے۔ یہ طریقہ ان کی تعلیم کو یک طرفہ تقریر کے بجائے ایک جاری مکالمہ بناتا تھا۔

تدریسی انداز

حکیم محمد اقبال کے زیادہ تر محفوظ دروس مختصر، موضوعاتی اور سلسلہ وار ہیں۔ وہ ایک ویڈیو میں عموماً ایک مرکزی مسئلہ لیتے، پھر اسے سادہ اردو اور مقامی بول چال کے قریب لہجے میں بیان کرتے تھے۔ ان کا پُرسکون انداز، عمر بھر کے مطبی مشاہدے کا حوالہ اور روزمرہ اشیاء سے مثالیں ان کی گفتگو کو یاد رہنے والا بناتی ہیں۔

ان کے دروس میں بخار، نظامِ ہضم، جوڑوں، گردوں، جگر، جلد، سانس، بلڈ پریشر، ذیابیطس، خواتین و اطفال کے مسائل اور عمومی غذائی تدابیر سمیت بہت سے موضوعات شامل ہیں۔ بعض ویڈیو عنوانات میں علاج کے بہت قطعی الفاظ استعمال ہوئے ہیں؛ سوانحی مطالعے میں انہیں اسی زمانے کی آن لائن پیش کش اور ان کے مکتبِ فکر کے دعووں کے طور پر سمجھنا چاہیے۔ ہر مریض کی کیفیت مختلف ہو سکتی ہے، اس لیے خاص طور پر سنگین بیماری میں انفرادی معائنہ ضروری رہتا ہے۔

دو سو سے زائد محفوظ ویڈیو دروس

حکیم محمد اقبال کے علمی ورثے کی سب سے نمایاں صورت ان کی ویڈیوز ہیں۔ نکتہ گائیڈنس نے ان کی وفات کے بعد ان کے تمام دستیاب دروس کو یکجا کرنے کی کوشش کی اور بتایا کہ یہ مواد نکتہ گائیڈنس اور الہدیٰ گائیڈنس کے چینلوں پر محفوظ ہے۔ صارف کی فراہم کردہ مرتب شدہ YouTube فہرست میں 228 اندراجات نظر آتے ہیں۔ مختلف صفحات پر مجموعی تعداد کا انداز کچھ مختلف ہے، مگر یہ بات واضح ہے کہ ان کے دو سو کے قریب یا اس سے زیادہ مختصر طبی اسباق آج بھی آن لائن دستیاب ہیں۔

یہ ذخیرہ صرف تعداد کے اعتبار سے اہم نہیں۔ اس میں ابتدائی انٹرویو سے لے کر الگ الگ بیماریوں، غذاؤں، اعضائی کیفیتوں اور مطبی سوالات تک ایک تدریجی سلسلہ محفوظ ہو گیا ہے۔ موضوعاتی عنوان اور مختصر دورانیہ طالب علم کو کسی مخصوص مسئلے تک جلد پہنچنے میں مدد دیتا ہے۔ تاہم مرتب شدہ پلے لسٹ کے تمام اندراجات کو منفرد یا خود ان کے اصل چینل کی ویڈیو کہنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ اس میں دوبارہ شائع شدہ یا متعلقہ مواد بھی شامل ہو سکتا ہے۔

شاگردی اور عملی تربیت

مشرقی طبی روایت میں استاد کے مطب میں رہ کر مشاہدہ، مریض سے گفتگو، غذا و دوا کی ترتیب اور عملی فیصلے سیکھنا اہم سمجھا جاتا ہے۔ حکیم محمد اقبال کے کام میں بھی یہ پہلو موجود تھا۔ حکیم سید عبدالوہاب شاہ شیرازی کا 2019ء تا 2020ء اقبال دواخانہ میں شاگرد اور معاون رہنے کا بیان ان کے تدریسی کردار کا براہِ راست اشارہ ہے۔

ویڈیو دروس نے اسی استاد شاگرد تعلق کو ایک نئی وسعت دی۔ جو لوگ ان کے مطب تک نہیں پہنچ سکتے تھے، وہ ریکارڈ شدہ گفتگو سے ان کا طریقۂ استدلال سن سکتے تھے۔ اس لحاظ سے ان کی تدریس دو سطحوں پر جاری رہی: مطب میں بالمشافہ رہنمائی اور انٹرنیٹ پر عام فہم طبی تعلیم۔

مجرباتِ اقبال: تحریری ورثہ

حکیم محمد اقبال سے منسوب تحریری ذخیرے کا معروف نام مجرباتِ اقبال ہے۔ دستیاب تعارف اسے قانونِ مفرد اعضاء کے مطابق مرتب ان کے مجربات اور مطبی نوٹس کا مجموعہ قرار دیتا ہے۔ نکتہ گائیڈنس نے فروری 2019ء میں “مجربات اور حکمت حکیم محمد اقبال” کے عنوان سے اسے مروٹ سٹی، ضلع بہاولنگر کے حکیم محمد اقبال کے نام سے متعارف کرایا۔

اس مجموعے کا ایک اسکین شدہ نسخہ فروری 2021ء میں Internet Archive پر محفوظ کیا گیا، جس سے ان کے نوٹس تک آن لائن رسائی ممکن ہوئی۔ بعد میں حکیم محمد اقبال مروٹی اور سید عبدالوہاب شاہ کے نام سے ایک نئے مرتب شدہ ایڈیشن کا اندراج بھی سامنے آیا۔ 2022ء کے اس مطبوعہ ایڈیشن کو 101 صفحات کی کتاب کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ یوں “مجرباتِ اقبال” کو ایک ہی اشاعت سمجھنے کے بجائے اصل مطبی نوٹس، ان کے ڈیجیٹل تحفظ اور بعد کی مرتب اشاعت کے تسلسل کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔

وفات اور عوامی ردِعمل

29 نومبر 2020ء کو الہدیٰ گائیڈنس نے حکیم محمد اقبال کے انتقال کی اطلاع اور ان کی یاد میں ایک تعزیتی ویڈیو شائع کی۔ اس دستیاب اعلان سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ان کی وفات نومبر 2020ء کے آخری ایام تک ہو چکی تھی؛ تاہم قابلِ حوالہ عوامی ریکارڈ میں ان کی وفات کی قطعی تاریخ یکساں طور پر درج نہیں ملتی۔ اسی لیے سوانح میں اعلان کی تاریخ اور محتاط زمانی نسبت اختیار کی گئی ہے۔

تعزیتی ویڈیو پر ناظرین کے وسیع ردِعمل نے ان کے اثر کی ایک مختلف تصویر پیش کی۔ لوگوں نے انہیں استاد، طبی رہنما اور خلوص کے ساتھ بات سمجھانے والے بزرگ کے طور پر یاد کیا۔ یہ تاثرات ان کی شخصیت کے بارے میں عدالتی فیصلہ نہیں، بلکہ ان سامعین کی یادیں ہیں جنہوں نے ان کے دروس سے تعلق قائم کیا تھا۔

شخصیت اور خدمت کا نقش

محفوظ ویڈیوز میں حکیم محمد اقبال ایک عمر رسیدہ، سادہ مزاج اور بے تکلف مدرس کے طور پر دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی توجہ ظاہری پیش کش سے زیادہ موضوع کی وضاحت پر رہتی تھی۔ وہ اپنے تجربے کو پیچیدہ علمی نمائش بنانے کے بجائے مریض اور طالب علم کی زبان میں منتقل کرتے تھے۔ یہی سادگی ان کی مقبولیت کا اہم سبب بنی۔

ان کی خدمت کی قدر صرف کسی ایک نسخے یا دعوے سے متعین نہیں ہوتی۔ اصل اہمیت اس مسلسل کوشش کی ہے جس کے ذریعے انہوں نے اپنے حاصل کردہ علم، مطبی مشاہدات اور قانونِ مفرد اعضاء کی تعبیر کو ریکارڈ پر منتقل کیا۔ چھوٹے شہر کے ایک سینئر معالج کی آواز کا اتنے بڑے ڈیجیٹل ذخیرے کی صورت میں محفوظ ہونا اپنے آپ میں اردو طبی تاریخ کا قابلِ توجہ واقعہ ہے۔

نامکمل سوانحی معلومات

حکیم محمد اقبال کی تاریخِ پیدائش، والدین، ابتدائی تعلیم، باضابطہ طبی اسناد اور تمام اساتذہ کی مربوط تفصیل فی الحال دستیاب عوامی مواد میں سامنے نہیں آتی۔ یہ خلا ان کی معلوم خدمات کی نفی نہیں کرتا؛ صرف یہ بتاتا ہے کہ ان کی زندگی کے بعض ابواب ابھی مزید خاندانی، ادارہ جاتی یا مقامی دستاویزات کے منتظر ہیں۔ اگر مستقبل میں قابلِ حوالہ معلومات سامنے آئیں تو اس سوانح کو ان کے مطابق مزید مکمل کیا جا سکتا ہے۔

علمی و ڈیجیٹل میراث

حکیم محمد اقبال مروٹی کا ورثہ تین واضح صورتوں میں باقی ہے: مروٹ اور بہاولنگر میں ان کی مطبی خدمت، شاگردوں تک منتقل ہونے والی عملی تربیت، اور دو سو سے زائد اندراجات پر مشتمل ویڈیو و تحریری ذخیرہ۔ الہدیٰ گائیڈنس، نکتہ گائیڈنس، eIslamicBook اور دیگر مرتبین نے اس مواد کو محفوظ رکھنے میں کردار ادا کیا۔

ان کی سوانح ایک ایسے طبیب کی کہانی ہے جس نے عمر کے آخری حصے میں جدید ابلاغی وسیلے کو اپنے روایتی علم کی ترسیل کے لیے اختیار کیا۔ آج ان کے دروس سے اتفاق یا اختلاف سے پہلے یہ حقیقت قابلِ قدر ہے کہ ان کی آواز، طریقۂ بیان اور مطبی روایت آئندہ مطالعے کے لیے محفوظ ہیں۔ ذمہ دارانہ مطالعہ یہی ہے کہ ان کے کام کو اس کے تاریخی اور علمی سیاق میں سمجھا جائے، دعووں کو درست نسبت کے ساتھ نقل کیا جائے اور مریض کی حفاظت کو ہر عملی فیصلے میں مقدم رکھا جائے۔

مصنف جی ایم لطیف زادے

مصنف کے بارے میں

جی ایم لطیف زادے، UniTib کے شریک بانی اور مصنف ہیں۔ وہ ہیلتھ سرٹ ایجوکیشن سے قدرتی طب و جڑی بوٹیوں اور کلینیکل غذائیت کی پیشہ ورانہ اسناد رکھتے ہیں، جبکہ شانتی مکان آیورویدک ویلنس سنٹر سے آیورویدک ادویاتی پودوں کی تربیت بھی حاصل کر چکے ہیں۔ ان کی پیشہ ورانہ دلچسپی نیچروپیتھی، جڑی بوٹیوں، غذائیت اور آیورویدک ادویاتی پودوں کے ذمہ دارانہ اور تعلیمی مطالعے پر مرکوز ہے۔

Post a Comment